ممبئی: فلسطین کی حمایت میں پتنگ بازی کی تقریب منعقد کرنے کے بعد پولیس گھر پہنچ گئی

Wait 5 sec.

ممبئی کے سانتا کروز علاقے میں رہنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ ہرشدا بوراڈے نے الزام لگایا کہ فلسطین کی حمایت میں پتنگ اڑانے پر ان سے زبردستی اور غیر قانونی طور پر پوچھ گچھ کی گئی۔ غزہ کے بچوں کی حمایت میں 15 ستمبر کو ممبئی کے باندرہ علاقے میں پتنگ بازی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ایونٹ کے دو دن بعد، ممبئی پولیس نے حصہ لینے والے کچھ نوجوانوں اور خواتین سے پوچھ گچھ شروع کی۔نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق ہرشدا بوراڈے نے الزام لگایا کہ پولیس پیشگی اطلاع یا سرکاری وارنٹ کے بغیر ان کے سانتا کروز کے گھر میں داخل ہوئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گھر اور اس کے ذاتی سامان کی تلاشی لی گئی، اور اس سے آدھی رات تک پوچھ گچھ کی گئی۔ ہرشدا نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس کے روم میٹ کے سامان اور ذاتی سامان کی بھی تلاشی لی گئی جو اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے تھے۔بوراڑے نے بتایا کہ اس کے بعد مالک مکان نے انہیں مکان خالی کرنے کو کہا۔ ہرشدا نے بتایا کہ 15 پولیس والوں نے جمعہ کی شام 5 بجے سے ہفتہ کی صبح 3 بجے تک ان کے گھر کی تلاشی لی۔ اس دوران انہوں نے اسے کوئی قانونی نوٹس یا وارنٹ نہیں دکھایا۔ہرشدا نے بتایا کہ جب اس نے ان سے ان کی شناخت پوچھی تو انہوں نے انکار کر دیا اور وہ سب زبردستی گھر میں گھس گئے۔ اس کی نوٹ بک اور ڈائریاں چیک کی گئیں، کتابوں کے نام نوٹ کیے گئے، اس کے سامان کی تصاویر لی گئیں، اور ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔ تاہم پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔اس معاملے کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ قانون کے تحت طے شدہ طریقہ کار کے مطابق تفتیش کی گئی ۔پولیس نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔ فی الحال پولیس کی تفتیش اور خواتین کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔