واشنگٹن : مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کا غلط استعمال ایک ارب سے زیادہ انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے۔بل گیٹس نے اے آئی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جدید اے آئی ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو ایسے واقعات رونما ہوسکتے ہیں جن کے نتیجے میں ایک ارب تک انسانوں کی جانیں ضائع ہوسکتی ہیں۔این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بدنیتی رکھنے والے افراد کے ہاتھوں جدید اے آئی ٹولز کا استعمال اس سے پہلے دستیاب کسی بھی ہتھیار کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ثابت ہوسکتا ہے۔بل گیٹس نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ اے آئی کی ترقی کے لیے وفاقی سطح پر قانون سازی ناگزیر ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال اور ترقی کے لیے مؤثر حفاظتی ضوابط وضع کیے جاسکیں۔ View this post on InstagramA post shared by NBC News (@nbcnews)مصنوعی ذہانت نے طب، تعلیم، کاروبار، سائنس اور روزمرہ زندگی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کی ہیں، تاہم اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر طاقتور اے آئی سسٹمز کو بدنیتی پر مبنی افراد، جرائم پیشہ گروہوں یا ریاستی و غیر ریاستی عناصر نے استعمال کرنا شروع کردیا تو اس کے نتائج کس حد تک سنگین ہوسکتے ہیں۔اے آئی سائبر حملوں کو زیادہ خطرناک بناسکتی ہےماہرین کی جانب سے زیر بحث اہم خطرات میں اے آئی کی مدد سے ہونے والے سائبر حملے شامل ہیں۔ جدید اے آئی سسٹمز حملہ آوروں کو کمپیوٹر سسٹمز میں کمزوریاں تلاش کرنے، حملوں کو خودکار بنانے اور نقصان دہ کوڈ تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔اس ٹیکنالوجی کے ذریعے جعل سازی، شناختی فراڈ اور انتہائی حقیقت سے قریب تر جعلی مواد تیار کرنا بھی آسان ہوسکتا ہے، جس سے عام صارفین، اداروں اور اہم انفراسٹرکچر کو لاحق سائبر خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔اے آئی نے صحت اور طبی تحقیق میں بیماریوں کی تشخیص، ادویات اور ویکسین کی تیاری سمیت متعدد شعبوں میں امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن یہی ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں پہنچنے کی صورت میں زندگی کے خطرات سے بھی جوڑی جارہی ہے۔تشویش یہ ہے کہ جدید اے آئی کسی خطرناک حیاتیاتی تحقیق یا معلومات تک رسائی اور اس کے استعمال کو آسان بنا سکتی ہے۔ اسی لیے ماہرین اے آئی کی ترقی کے ساتھ حیاتیاتی تحفظ کے مضبوط ضوابط پر بھی زور دے رہے ہیں۔