الیکشن کمیشن نے دہلی اور مہاراشٹر میں ایس آئی آر کی تاریخ بڑھا دی ہے۔ دہلی میں ایس آئی آر کے دوران دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔ مہاراشٹر میں اب بارہ اکتوبر تک دعوے اور اعتراضات دائر کیے جاسکتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار، الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نےکل یعنی 26 ستمبر کو ایس آئی آرسے متعلق کئی فیصلوں کو منظوری دی۔الیکشن کمیشن کے مطابق دہلی میں دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ تیس اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ نوٹس، دعوے اور اعتراضات کو نمٹانے کی آخری تاریخ تیس نومبر تک کر دی ہے۔ مہاراشٹر میں، چیف الیکٹورل آفیسر کی درخواست پر دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 12 اکتوبر 2026 تک بڑھا دی گئی ہے۔ نوٹس اور دعووں اور اعتراضات پر کارروائی کی آخری تاریخ دس نومبر 2026 تک کر دی گئی ہے۔الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا کہ کمیشن کے کمشنروں کی جانب سے عہدیداروں کو جاری کردہ تمام ہدایات پر مکمل عمل کیا جائے گا۔ ای سی آئی نے کہا کہ ایس آئی آر پہلے ہی 20 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں بشمول بہار اور مغربی بنگال میں مکمل ہو چکا ہے۔ وہ لوگ جن کے نام ایس آئی آرکے دوران یا اس کے بعد انتخابی فہرستوں سے باہر رہ گئے تھے وہ متعلقہ ای آر او کو اپ ڈیٹ کے عمل کے تحت شامل کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس میں نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے دوران بعض ووٹرز کو نوٹس وصول کرنے کے طریقے میں تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ جن لوگوں کو غلط کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے یا ان میں منطقی تضادات ہیں، بوتھ لیول آفیسرز یعنی بی ایل او ضروری دستاویزات جمع کرنے کے لیے ان کے گھر جائیں گے۔ اس کے بعد ان دستاویزات کو انتخابی رجسٹریشن افسر کے ذریعے غور کے لیے ای سی آئ نیٹ سسٹم پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ عام طور پر ایسے ووٹرز کو سماعت کے لیے ای آر اویا اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کے دفتر میں بلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ گوا کے چیف الیکٹورل آفیسر نے متعلقہ بی ایل اوز کو ہدایت دی ہے کہ وہ گھر گھر جا کر ووٹرز کے فارم جمع کریں جو انتخابی فہرستوں سے باہر رہ گئے ہیں۔ ای سی آئی کے مطابق، 97 میں سے 81 ووٹرز نے پہلے ہی اپنے ناموں کو شامل کرنے کے لیے فارم-6 بھر دئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ پریس نوٹ 26 ستمبر 2026 کو ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے اور اسے مکمل کمیشن کی منظوری حاصل ہے۔