جموئی واقعہ: 120 سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف مقدمہ، نابالغ متاثرہ کی شناخت ظاہر کرنے کا الزام

Wait 5 sec.

پٹنہ: بہار کے جموئی ضلع میں نابالغ طالبہ سے چھیڑ چھاڑ اور اس کے ساتھ موجود طالب علم سے مارپیٹ کے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے 120 سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو اور دیگر مواد شیئر کرنے سے نابالغ متاثرین کی شناخت ظاہر ہوئی، جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔یہ واقعہ جموئی-لکھی سرائے شاہراہ پر واقع مڑوا پہاڑ علاقے میں ہفتے کی شام پیش آیا تھا۔ پولیس کے مطابق کچھ نوجوانوں نے ایک نابالغ طالبہ کو روک کر اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، جبکہ اس کے ساتھ موجود ایک طالب علم کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ واقعے کی ویڈیو اتوار کی شام سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد معاملہ انتظامیہ کے علم میں آیا۔جموئی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وشواجیت دیال نے کہا کہ کسی نابالغ کی شناخت ظاہر کرنے والے مواد کو دکھانا یا اسے سوشل میڈیا پر نشر کرنا سنگین جرم ہے۔ ان کے مطابق ایسے معاملات میں پوکسو ایکٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور جووینائل جسٹس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔پولیس کے مطابق جموئی صدر تھانے میں ان قوانین کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ایس پی نے کہا کہ پولیس معاملے کی غیر جانب دارانہ تفتیش کر رہی ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے وائرل ویڈیوز ہٹانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نابالغ متاثرہ کی شناخت یا ذاتی معلومات ظاہر کرنے والی تصاویر، ویڈیوز یا دیگر مواد شیئر نہ کریں۔دوسری جانب پولیس نے اصل واقعے میں ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس کے مطابق وائرل ویڈیو میں سر پر نارنجی رنگ کا گمچھا باندھے نظر آنے والے مبینہ مرکزی ملزم نندن یادو کو پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل رام آشیش چودھری نامی ایک ملزم کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ایک دیگر ملزم ہرے رام یادو کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری جاری ہے۔پولیس نے بتایا کہ قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں تین نابالغوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ اب تک 7 سے 8 نوجوانوں کی شناخت کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ معاملے کی تفصیلی تفتیش کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔پولیس کے مطابق ایس آئی ٹی واقعے کے حالات، شناخت کیے گئے ملزمان کے کردار، ویڈیو کی ریکارڈنگ اور اسے سوشل میڈیا پر نشر کیے جانے کے ذرائع کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (نظم و نسق) کے ایس انوپم نے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کی شناخت اور گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔