نیو یارک (22 ستمبر 2026): ترک صدر رجب طیب اردوان نے غزہ کو موت کا کیمپ اور دنیا میں بچوں کا سب سے بڑا قبرستان قرار دے دیا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں رجب طیب اردوان نے کہا کہ اسرائیلی حکومت غزہ پر قبضے کا خاتمہ کرنے سے انکاری ہے، اسرائیل غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے سے انکار کر رہا ہے، اسرائیلی حکومت غزہ کیلیے ٹرمپ کے منصوبے میں رکاوٹ ڈال رہی ہے، فلسطینی علاقوں میں صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ترک صدر نے کہا کہ غزہ ہمارے دور کا انتہائی غیر انسانی اور شرمناک حراستی کیمپ بن چکا ہے، جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں شہدا کی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی، اقوام متحدہ کا قیام امن و سلامتی کے تحفظ کیلیے عمل میں آیا تھا لیکن یہ اپنا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہی اور اس کو کردار ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان پر ترک صدر رجب طیب اردوان کا رد عملانہوں نے کہا کہ مغربی کنارہ آباد کاروں کے تشدد اور دہشتگردی کا شکار ہے، فلسطین میں مسلمان اپنے مقدس مقامات تک رسائی سے محروم ہیں، اسرائیلی دہشتگردی کے باعث غزہ میں 74 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، مغربی کنارے میں آباد کاروں کی جانب سے دہشتگردی کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اور لبنانی بچوں کو تحفظ ملنا چاہیے، بچوں کو بموں کی آواز پر بیدار نہیں ہونا چاہیے۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ مکہ اتحاد سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان کے درمیان یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اتحاد سے یکجہتی کو مستحکم کر رہے ہیں۔ترک صدر نے کہا کہ میں تمام ممالک سے اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کرتا ہوں، ترکیے خلیج میں تنازع کے خاتمے کیلیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، کوئی بھی صاحبِ ضمیر شخص غزہ میں واقعات سے آنکھیں نہیں چرا سکتا، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رہنی چاہیے، علاقائی مسائل کے حل تلاش کرنے کیلیے کوشاں ہیں۔