مہاراشٹر میں خشک سالی کے اعلان کے درمیان ریاست میں ڈیٹا سنٹرز کی تیزی سے بڑھتی صنعت اور اس کے لیے پانی کی ضرورت پر کانگریس نے سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس حوالے سے ایک پوسٹ کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے مہاراشٹر کی 358 تحصیلوں میں سے 265 میں باضابطہ طور پر خشک سالی کا اعلان کیا ہے، یعنی ریاست کا تقریباً 75 فیصد حصہ خشک سالی کی زد میں ہے۔ اور یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مہاراشٹر ڈیٹا سنٹر کی صنعت کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔‘‘Chief Minister Devendra Fadnavis has officially declared drought in 265 of Maharashtra’s 358 talukas - nearly 75% of the state.And this is happening as Maharashtra aggressively expands its data-centre industry.The state has attracted over $300 billion in investment interest… https://t.co/HsBtDxzg5w pic.twitter.com/CIjJIwlWPf— Pawan Khera ಪವನ್ ಖೇರಾ (@Pawankhera) September 27, 2026پون کھیڑا نے مزید لکھا کہ ’’ریاست نے ڈیٹا سنٹرز کے لیے 300 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری میں دلچسپی حاصل کی ہے اور 2032 تک 5.7 گیگا واٹ کی ڈیٹا سینٹر گنجائش حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ ڈیٹا سنٹرز کے لیے 2 اہم وسائل درکار ہوتے ہیں، بجلی اور پانی۔ وہ کتنی مقدار میں پانی استعمال کرتے ہیں، اس کا انحصار کولنگ ٹیکنالوجی پر ہوتا ہے، لیکن پانی کی ضرورت ایک اہم معاملہ ہے، خاص طور پر مہاراشٹر جیسے پانی کی قلت والے علاقوں میں۔‘‘کانگریس لیڈر نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’اطلاعات کے مطابق حکومت ایک ایسے نظام کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس کے تحت میونسپل کارپوریشنز سیوریج کو صاف کریں گی، ایم آئی ڈی سی اسے مزید صاف کرے گا اور پھر اس صاف کیے گئے پانی کو ڈیٹا سنٹرز اور دیگر صنعتوں کو فروخت کیا جائے گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ اس سے چند اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں:جب مہاراشٹر کا تقریباً 3 چوتھائی حصہ باضابطہ طور پر خشک سالی کی زد میں ہے تو حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا منصوبہ بنا رہی ہے کہ ریاست کے آبی وسائل کسانوں اور عام شہریوں سے ہٹا کر ڈیٹا سنٹرز کی اس بڑے پیمانے پر توسیع کے لیے استعمال نہ کیے جائیں؟مہاراشٹر جیسی ریاست میں، جہاں کسانوں کی خودکشی کی شرح ملک کی بلند ترین شرحوں میں شامل ہے، پانی پر پہلا حق کس کا ہے: کسانوں کا یا ڈیٹا سنٹرز کا؟اور اگر ریاست صنعتوں کے لیے سیوریج کو صاف کر کے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا نیٹورک قائم کرنے کے لیے تیار ہے تو کسانوں کو قابل اعتماد اور صاف کیا گیا پانی فراہم کرنے کے لیے ایسی مستعدی کیوں نہیں دکھائی گئی، جس سے کسانوں کی خودکشیوں کا سبب بننے والی پریشانی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے؟