’وہ مسلمان تھا...‘، راجستھان میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہی پتھر سے سر کچل کر قتل کیے جانے پر پون کھیڑا نے اٹھایا سوال

Wait 5 sec.

راجستھان کے باروڈا میو پولیس اسٹیشن کے قریب ایک شخص کو پتھر سے سر کچل کر قتل کیے جانے کے واقعے پر کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ایک شخص یا کوئی بھی شخص پولیس اسٹیشن کے قریب ہی پتھر سے سر کچل کر مار دیا جائے اور ایک بھی پولیس والا اسے بچانے کے لیے باہر نہ نکلے یہ بے حد خوفناک ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’یہی ہوا راجستھان کے باروڈا میو پولیس اسٹیشن کے باہر اور متاثرہ شخص کا جرم کیا تھا؟ کہ وہ صاف طور پر مسلمان تھا، شاید داڑھی اور ٹوپی سے پہچان میں آ گیا تھا۔‘‘कि एक आदमी - कोई भी आदमी - पुलिस स्टेशन के ठीक बाहर पत्थर से सिर कुचलकर मार दिया जाए, और एक भी पुलिसवाला उसे बचाने के लिए बाहर न निकले, यह बेहद खौफनाक है।यही हुआ राजस्थान के बारोदा मेव पुलिस स्टेशन के बाहर।और पीड़ित का गुनाह क्या था?कि वह साफ़ तौर पर मुसलमान था - शायद दाढ़ी… https://t.co/kRuCmIE64N— Pawan Khera ಪವನ್ ಖೇರಾ (@Pawankhera) September 27, 2026کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے مزید لکھا کہ ’’یہی تو نریندر مودی نے کہا تھا کہ ’کپڑوں سے پہچان لیں گے‘۔ انہوں نے لوگوں کو ان کے کپڑوں سے پہچاننے اور پروفائلنگ کو فروغ دیا۔ آج ان کی اس ’پہچان‘ کی سیاست کا یہ انجام ہے۔‘‘ ان کے مطابق یہ خوفناک واقعہ اس نفرت اور بے خوف چھوٹ کی تصویر ہے جو مودی نے پورے ملک میں پیدا کی ہے۔ پوسٹ کی آخر میں انہوں نے لکھا کہ ’’اور مودی اپنی زہریلی سیاست کے نتائج کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔‘‘پون کھیڑا نے اپنی پوسٹ میں ’دی وائر‘ کی ایک رپورٹ پیش کی جس کی سرخی ہے ’بی جے پی حکومت پر بدنما داغ‘: راجستھان میں پولیس اسٹیشن کے باہر مسلمان شخص کا پتھر سے سر کچل کر قتل‘۔ اس میں بتایا گیا کہ ’’24 ستمبر کی صبح راجستھان کے الور ضلع کے باراواس گاؤں کے رہنے والے 40 سالہ سیکن خان نے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ اپنی موٹر سائیکل کے لیے نیا ٹائر خریدنے بازار جا رہے ہیں اور جلد واپس آ جائیں گے تاکہ اپنے کھیت میں بوئی ہوئی پیاز کی فصل کی دیکھ بھال کر سکیں۔ لیکن وہ کبھی واپس نہیں آئے۔ کئی گھنٹے بعد 2 بیٹیوں اور ایک بیٹے کے والد سیکن خان مردہ پائے گئے۔ مبینہ طور پر باروڈا میو پولیس اسٹیشن کے قریب ہی ایک شخص نے پتھر سے ان کا سر کچل دیا تھا، جسے بعد میں پولیس نے گرفتار کر لیا۔‘‘’’ہمیں نہیں معلوم کہ میرے بھائی کو کیوں قتل کیا گیا۔ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ ان کا واحد ’جرم‘ یہ تھا کہ وہ داڑھی رکھتے تھے اور ٹوپی پہنتے تھے۔ ہمیں شبہ ہے کہ انہیں اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ ان کے لباس سے واضح تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔ پولیس اسٹیشن کے باہر انہیں بے رحمی سے قتل کر دیا گیا اور اس کے باوجود ایک بھی پولیس اہلکار انہیں بچانے کے لیے نہیں آیا۔‘‘ یہ بات سیکن خان کے چھوٹے بھائی ارشاد خان نے کہی، اس دوران ان کی آواز بھر آئی۔