نیویارک میں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر امریکی حکام سے ملاقات پر ایرانی پارلیمنٹ میں عباس عراقچی کے مواخذے کی تحریک پیش کی جارہی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق رکن پارلیمنٹ نےوزیر خارجہ عباس عراقچی کی امریکی حکام سے ملاقات پر سوال اٹھا دیا۔ رکن پارلیمنٹ ابراہیم رضائی نے کہا کہ عراقچی بتائیں امریکی نمائندےسے کس اختیار کے تحت ملاقات کی؟ان کا کہنا تھا کہ ایرانی شرائط امریکا تک پہنچائی جاچکی ہیں اور شرائط کی آڑ میں ملاقات کا جواز تراشنا کمزوری کی علامت ہے، عباس عراقچی کی ملاقات سے تہران کا مؤقف کمزور ہوا ہے۔رکن نے کہا کہ وزارت خارجہ پالیسی ساز نہیں، عملدرآمد کا ادارہ ہے پارلیمنٹ ایرانی قوم کے مفادات کا دفاع کرے گی۔امریکی وزیر خارجہامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ایرانی حکام سے ہونے والی گفتگو میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، اہم بات یہ ہے کہ ان سے کم از کم بات چیت تو ہوئی۔مارکو روبیو نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ایران اور اس کی پراکسیز نے سفارتی تنصیبات پر حملے کیے جو غیر معمولی بات ہے، تہران نے کویت میں امریکی سفارتخانے پر بھی حملہ کیا۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی حکام اس غلط فہمی میں ہیں کہ نومبر میں ڈیموکریٹس کامیاب ہوں گے، ان کو غلط فہمی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف اقدامات نہیں کر سکیں گے، ایرانی امریکی نظام کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلیے کافی گولہ بارود موجود ہے، امریکا دنیا کے مختلف علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے، امریکا کہیں بھی اپنی عسکری موجودگی کم کرنے کی بات کرے تو سب کو تشویش ہوتی ہے۔