بشار الاسد کی حکومت کا خوف: شامی شہری کی فریج کے پیچھے 13 سالہ روپوشی کی عجیب ترین کہانی

Wait 5 sec.

دمشق(24 ستمبر 2026): بشار الاسد کی سابقہ حکومت کے دوران خوف اور جبر سے بچنے کے لیے ایک شامی شہری محمد زکور نے جو طریقہ اپنایا، اس نے دنیا کو دنگ کر دیا۔محمد زکور نے لاذقیہ شہر میں اپنے دادا کے گھر کے اندر ایک دیوار کے پیچھے محض ایک میٹر سے بھی کم چوڑی جگہ پر 13 سال سے زائد کا عرصہ روپوش ہو کر گزار دیا۔اخبار "النہار” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد زکور نے بتایا کہ شامی انقلاب کے ابتدائی سالوں کے دوران سکیورٹی اداروں نے انہیں دو بار گرفتار کیا۔ رہائی کے بعد جب انہیں ایک رشتہ دار کی طرف سے دوبارہ گرفتاری کی اطلاع ملی، تو انہوں نے تیسری بار قید ہونے کے بجائے روپوش ہونے کا فیصلہ کیا۔اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے دادا کے گھر کا انتخاب کیا اور بیوی کی مدد سے تعمیراتی سامان خرید کر ایک ایسی چھوٹی سی دیوار تعمیر کی جس کے پیچھے ایک انتہائی تنگ جگہ موجود تھی۔اس دوران صرف ان کی اہلیہ اس بات سے واقف تھیں کہ وہ زندہ ہیں۔ اہلیہ ہی ایک چھوٹے سے سوراخ کے ذریعے روزمرہ کا کھانا، پانی، لباس اور ادویات ان تک پہنچاتی تھیں۔ بیماری کی صورت میں اہلیہ ڈاکٹر سے دوا لا کر دیتی تھیں۔اس کہانی کا سب سے دردناک پہلو یہ تھا کہ زکور کے بچوں سے ان کے زندہ ہونے کی بات اس خوف سے چھپائی گئی کہ کہیں بچے نادانی میں یہ راز فاش نہ کر دیں۔سال گزرنے کے ساتھ بچے اسی گمان میں بڑے ہوئے کہ ان کے والد کا انتقال ہو چکا ہے، یہاں تک کہ ترکیہ میں مقیم زکور کے بھائی نے ان کی تعزیت کی مجلس بھی منعقد کر لی تھی۔جبکہ وہ اپنے اہل خانہ سے محض چند میٹر کے فاصلے پر دیوار کے پیچھے موجود تھے۔ زکور دیوار کے پیچھے سے اپنے بچوں کی آوازیں اور ان کا بڑا ہونا سنتے رہتے تھے مگر سامنے آنے سے قاصر تھے۔اس عجیب و غریب قید کا خاتمہ 8 دسمبر 2024 کو ہوا۔ اس روز فجر کے وقت زکور نے باہر سے تکبیرات کی آوازیں سنیں اور بیوی سے ماجرا پوچھا۔ جب انہیں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کی خبر ملی تو انہیں یقین ہو گیا کہ ان کے چھپنے کی وجہ اب ختم ہو چکی ہے، اور وہ 13 سال بعد باہر نکل آئے۔باہر آنے کے بعد ان کی اہلیہ نے بچوں سے سوراخ کے آگے رکھا ہوا فریج ہٹانے کو کہا اور انہیں بتایا کہ ان کے والد زندہ ہیں۔ بچوں کے لیے یہ انکشاف ناقابل یقین تھا، لیکن جب طویل برسوں بعد ان کے والد ان کے سامنے آئے تو یہ منظر سب کے لیے حیرت اور جذباتی صدمے کا باعث بن گیا۔