البانیہ کی انٹیلیجنس چیف نے گرفتاری دے دی

Wait 5 sec.

البانیہ کی ریاستی انٹیلیجنس سروس کی سربراہ ولورا ہیسینی نے گزشتہ روز حکام کے سامنے گرفتاری دے دی۔ انسداد بدعنوانی کے پراسیکیوٹرز کی جانب سے ایک کرپشن کیس میں ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا تھا، جس میں پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار بھی زیرِ تفتیش ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق خصوصی پراسیکیوشن آفس برائے انسداد بدعنوانی و منظم جرائم (SPAK) نے بتایا کہ ولورا ہیسینی کو عہدے سے معطل کرتے ہوئے گھر میں نظر بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق البانیہ کی ریاستی انٹیلیجنس سروس کی سربراہ ولورا ہیسینی پر نیشنل ایجنسی فار دی انفارمیشن سوسائٹی (AKSHI) سے متعلق بدعنوانی کی تحقیقات کے دوران خفیہ معلومات غیر مجاز افراد تک پہنچانے کا شبہ ہے۔پولیس ترجمان کے مطابق ہیسینی نے البانیہ اور کوسوو کے درمیان مورینا سرحدی چوکی پر خود کو البانوی حکام کو اپنی گرفتاری پیش کردی، اسی کیس میں سائنٹیفک پولیس انسٹی ٹیوٹ کے ایک شعبے کے سربراہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔اے کے ایس ایچ آئی ملک میں ڈیجیٹل سرکاری خدمات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کرتا ہے، جبکہ اس ادارے میں سرکاری فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کے الزام میں متعدد حکام اور کاروباری شخصیات پہلے ہی گرفتار یا زیرِ تفتیش ہیں۔معروف فنکاروں کے نام سے جعلی کاروبار، ملزم کو قید کی سزایہ معاملہ وزیراعظم ایڈی راما کی حکومت کو درپیش تازہ ترین بدعنوانی اسکینڈل ہے۔ صدر بجرام بیگاج نے منگل کی شب ہیسینی کو ریاستی انٹیلیجنس چیف کے عہدے سے برطرف کرنے کے فرمان پر دستخط کیے۔