بھوپال کے 21 سالہ ماسٹر پلان کا راستہ ہموار، سپریم کورٹ نے دی مشروط اجازت

Wait 5 sec.

سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو بھوپال شہر کا نیا ڈرافٹ ماسٹر پلان پیش کرنے کی اجازت دے دی، لیکن شرط عائد کی کہ اسے عدالت کی اجازت کے بعد ہی نافذ کیا جا سکے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ رہائشی علاقوں میں چل رہے تجارتی اداروں کو بند کرنے کی بی ایم سی (بھوپال میونسپل کارپوریشن) کی مہم جاری رہے گی۔ اس فیصلہ سے ان تاجروں کو دھچکا لگا ہے جو اپنی روزی روٹی کی فکر کا حوالہ دیتے ہوئے احتجاج کر رہے تھے۔ سماعت کے دوران ریاستی حکومت نے بتایا کہ بی ایم سی کی مہم شروع ہونے کے 2 دن بعد تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی راجدھانیوں کے رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں بند کریں۔ مدھیہ پردیش حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بھوپال میں 1995 سے کوئی ماسٹر پلان نہیں ہے، اس لیے نئے ڈرافٹ ماسٹر پلان کی اجازت مانگی گئی۔ سماعت کے آغاز میں ایمیکس کیوری اے کے سنہا نے کہا کہ اگست میں حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے اور بی ایم سی کی مہم روکنے کا فیصلہ توہین عدالت جیسا ہے۔ اس پر ریاستی حکومت کے وکیل نٹراجن نے بتایا کہ کمیٹی کو تحلیل کر دیا گیا ہے اور اب بی ایم سی کی مہم میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ایمیکس کیوری نے مزید کہا کہ انہیں رہائشیوں کی جانب سے کم از کم 10 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات میں الزام لگایا گیا ہے کہ بی ایم سی صبح دکانیں بند کراتی ہے، لیکن شام تک وہ دوبارہ کھل جاتی ہیں۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ کا حکم ہر جگہ یکساں طور پر نافذ نہیں ہو رہا ہے۔ اس پر عدالت نے واضح کیا کہ اس کی ہدایت پر مکمل عمل کیا جائے اور کسی کے ساتھ امتیاز نہ ہو۔ بی ایم سی کو 23 اکتوبر کو ہونے والی اگلی سماعت میں کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔