مؤثر عالمی نظام ہوتا تو پاک بھارت سمیت کئی تنازعات سے نمٹا جا سکتا تھا: مارکو روبیو

Wait 5 sec.

واشنگٹن(24 ستمبر 2026): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مؤثر عالمی نظام ہوتا تو پاک بھارت سمیت کئی تنازعات سے نمٹا جا سکتا تھا۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سیاستدان مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایک مؤثر عالمی نظام موجود ہوتا تو پاک بھارت سمیت دنیا بھر کے کئی بڑے تنازعات سے بخوبی نمٹا جا سکتا تھا۔مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ موجودہ بین الاقوامی نظام اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام رہا ہے اور دنیا کے کئی بڑے تنازعات کو حل کرنے میں بین الاقوامی ادارے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہمارے پاس ایسا فعال بین الاقوامی نظام موجود ہوتا جو تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ یا بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی ممکنہ تنازع جیسے مسائل سے نمٹ سکتا، تو دنیا زیادہ محفوظ ہوتی۔انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اداروں کو اپنی تمام تر توجہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں اور دیرینہ تنازعات کے پرامن حل پر مرکوز کرنا ہوگی۔مارکو روبیو نے مزید کہا کہ امریکی صدر اس وقت بھی ایران کے ساتھ ایسے معاہدے کیلئے تیار ہیں جس کے نتیجے میں ایران ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بن سکے۔مارکو روبیو کے مطابق امریکا کیلئے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا معاہدہ ممکن ہو جو اس معاملے کو یقینی بنائے تو صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ سمجھوتے کیلئے تیار ہیں۔