نیویارک: چینی صدر شی جن پنگ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکا پہنچ گئے، جہاں ان کا اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا۔میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کا شان دار استقبال کیا، چین کے صدر کے اعزاز میں زبردست استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی اور انھیں توپوں کی سلامی پیش کی گئی۔امریکا اور چین کے قومی ترانوں کی دھنیں بجائی گئیں، دونوں ممالک کے پرچم بھی لہرائے گئے، امریکی فضائیہ کے طیاروں نے فلائی پاسٹ کا مظاہرہ بھی کیا۔ایران اور یوکرین نے اہم امور پر اتفاق کر لیاشی جن پنگ کا گزشتہ تقریباً 10 سال میں امریکا کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے، دورے کے دوران صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان اہم ملاقات ہوگی، جس میں امریکا چین تعلقات سمیت دیگر باہمی امور پر بات چیت متوقع ہے۔چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اور امریکا کو ایک دوسرے کا حریف نہیں، بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔ امریکا پہنچنے پر اپنے تحریری بیان میں انھوں نے کہا چینی قوم کی عظیم نشاۃِ ثانیہ اور امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کا عمل ساتھ ساتھ چل سکتا ہے۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں اوراس سے پوری دنیا کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔