نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس پر مزید دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ یوکرین کی جنگ کے اثرات اب اس کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل رہے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے صدر زیلنسکی نے جنگ ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے پیوٹن کو جنگ کا بنیادی محرک قرار دیا۔اُن کا کہنا تھا کہ 5 سال سے روسی جنرل پیوٹن کے حکم پر مشرقی یوکرین کے علاقے ڈونیٹسک پر قبضے کی کوششوں میں مصروف ہیں، محدود علاقائی پیش رفت کے بدلے روس کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور رواں سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران تقریباً 2 لاکھ 49 ہزار روسی فوجی ہلاک یا شدید زخمی ہوئے۔یوکرینی صدر نے خبردار کیا کہ جنگ کا دائرہ یوکرین سے آگے بڑھ رہا ہے اور روس کے ساتھ شمالی کوریا کی افواج کی شمولیت اس کی مثال ہے۔اُنہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے فوجیوں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پیانگ یانگ کو اس تعاون کے بدلے میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی سمیت فوجی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔شرائط پوری ہونے تک نہ آبنائے ہرمز کھلے گی نہ مذاکرات ہوں گے، محسن رضائیزیلنسکی نے دعویٰ ٰ کیا کہ روس یوکرین کے علاوہ مالدووا، پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے، جبکہ جنوبی قفقاز اور وسطی ایشیا کے ممالک کی خودمختاری کا بھی احترام نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ پیوٹن کو کارروائی کی جتنی زیادہ آزادی ملے گی دنیا کے دیگر ممالک کے لیے خطرات میں اتنا ہی اضافہ ہوجائے گا۔