’آئینہ دکھایا تو برا مان گئے‘ ایرانی صدر کی تقریر کے دوران امریکی وفد واک آؤٹ کر گیا

Wait 5 sec.

نیویارک(24 ستمبر 2026):  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کے خطاب کے آغاز پر امریکی وفد ہال سے واک آؤٹ کر گیا۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایرانی صدر پزیشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران میناب کے پرائمری گرلز اسکول پر امریکی حملے میں شہید ہونے والی طالبات کی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔اس دوران انہوں نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر بھی دکھائی اور مؤقف اپنایا کہ ہمارے رہنما کو جنگ کے پہلے روز بغیر کسی قصور کے قتل کیا گیا تھا۔ایرانی صدر نے شرکا کو بتایا کہ امریکا نے کھیل کے میدانوں اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں معصوم اور نہتے شہری لقمہ اجل بنے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے برعکس ایران نے اپنے دفاع میں جو بھی کارروائی کی، اس میں کبھی کسی شہری عمارت یا آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔خطاب کے دوران ایرانی صدر نے امریکی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا، حالانکہ ایران خود آپ کی دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کے اجلاس میں ان حقائق کے سامنے آنے پر وہاں موجود امریکی وفد اٹھ کر ہال سے باہر چلا گیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس واقعے پر ملے جلے تبصرے کیے گئے، کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ امریکی وفد کو آئینہ دکھایا گیا تو وہ برا مان گئے، جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ تلخ حقائق کا سامنا کرنے کے لیے بڑا ظرف چاہیے ہوتا ہے۔امریکی وفد کے واک آؤٹ کرنے کے بعد بھی ایرانی صدر نے اپنی تقریر جاری رکھی اور ببانگ دہل اعلان کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن طاقت کی زبان ہرگز قابلِ قبول نہیں، اور ایران نہ تو کبھی گھٹنے ٹیکے گا اور نہ ہی اپنے جوہری حق سے دستبردار ہوگا۔