نیویارک : سکھس فار جسٹس’ کے رہنما گرپتونت سنگھ پنو نے2047 تک بھارت کے نو ٹکڑوں میں بٹ جانے کا دعویٰ کردیا۔تفصیلات کے مطابق ‘سکھس فار جسٹس’ کے رہنما اور خالصتان تحریک کے سرگرم قائد گرپتونت سنگھ پنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت 2047 تک نو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔انہوں نے اقوامِ متحدہ سے باقاعدہ اپیل کی ہے کہ بھارتی پنجاب کو "مقبوضہ علاقہ” قرار دیا جائے۔گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ سکھ برادری خالصتان کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد کو جمہوریت، ریفرنڈم اور بیلٹ پیپر کے ذریعے آگے بڑھا رہی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ کامیاب ریفرنڈم کے بعد اقوامِ متحدہ میں بھارتی پنجاب کے حوالے سے باقاعدہ پٹیشن دائر کی جائے گی۔پنوں نے امریکہ اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے خلاف بھارتی سازشوں کے بے نقاب ہونے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی عدالت میں بھارتی شہری نکھل گپتا نے قتل کی سازش کا جرم باقاعدہ طور پر قبول کر لیا ہے۔سکھ رہنما نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کی بنیادی وجہ "مودی اور طالبان کا گٹھ جوڑ” ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت بھارت میں سکھوں کی نسل کشی کر رہی ہے اور بیرونِ ملک سکھ کارکنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔گرپتونت سنگھ پنوں نے اعلان کیا کہ خالصتان کے قیام کے لیے عالمی ریفرنڈم کا اگلا مرحلہ 18 اکتوبر کو منعقد ہوگا، جس میں سکھ برادری بڑی تعداد میں اپنا جمہوری حقِ رائے دہی استعمال کرے گی۔