ایس آئی آر پر الیکشن کمشنرز کے درمیان اختلاف کے متعلق ’دی انڈین ایکسپریس‘ کے دعوے سے سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ یہ تنازعہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ پہلے تو اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اب انہیں جیل بھیجنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اب تک صرف اپوزیشن یہ بات کہہ رہی تھی، لیکن اب 3 میں سے 2 الیکشن کمشنرز نے کابینہ سکریٹری سے شکایت کی ہے کہ گیانیش کمار کی منمانی چل رہی ہے۔ میں دونوں الیکشن کمشنرز کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ہمت دکھائی۔ اب ہمارا مطالبہ ہے کہ گیانیش کمار کو صرف ان کے عہدے سے نہ ہٹایا جائے بلکہ انہیں جیل بھیجا جائے۔Mumbai, Maharashtra: Shiv Sena (UBT) chief Uddhav Thackeray says, "Earlier, only we were raising these issues; I mean, we were in the Opposition. But perhaps, for the first time in the country’s history, there are three Commissioners in the Election Commission, and the two… pic.twitter.com/pUHoDfb05e— IANS (@ians_india) September 23, 2026ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’3 میں سے 2 الیکشن کمشنرز نے شکایت کی ہے، تو اب الیکشن کمیشن تو دونوں الیکشن کمشنرز کا ہوا۔ گیانیش کمار نے جو فیصلے لیے ہیں، انہیں منسوخ کیا جانا چاہیے اور بنگال، تمل ناڈو اور مہاراشٹر کے انتخابات دوبارہ کرائے جانے چاہئیں۔ گیانیش کمار کو جیل بھیجا جانا چاہیے، لیکن اب دونوں الیکشن کمشنرز پر بھی دباؤ ڈالے جانے کا پورا امکان ہے۔ سپریم کورٹ کو بھی اب ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ ملک کے وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ گیانیش کمار کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹائیں اور انہیں جیل بھیجیں۔ادھو ٹھاکرے نے بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کا نظام واپس لانے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہے۔ ٹھاکرے نے کہا کہ ’’انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے ہونے چاہئیں اور آج جمہوریت کو بچانے کے لیے عوام کو اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ انتخابات سے پہلے تقریباً 40 لاکھ ووٹرس کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے اور انتخابات کے بعد انہیں ہٹا دیا گیا۔ یہ سب کچھ اقتدار کی لالچ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔بی جے پی نے گیانیش کمار گپتا کو چیف الیکشن کمشنر بنایا تاکہ الیکشن کمیشن کو اندر سے کھوکھلا کیا جا سکے: پون کھیڑاادھو ٹھاکرے نے اپوزیشن جماعتوں سے جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی اور اس بات پر زور دیا کہ منتخب نمائندوں کو عوام کی آواز سننی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج ہم سب کو جمہوریت کو بچانے کے لیے ایک ساتھ آنا ہوگا۔ ہم عوام کے نمائندے ہیں اور اب انہیں عوام کی آواز سننی ہوگی۔‘‘