مہاراشٹر میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے دوران شیوسینا (یو بی ٹی) کی رہنما پرینکا چترویدی نے انتخابی افسران پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ پرینکا چترویدی نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزات جمع کرانے کے بعد بھی ان کے خاندان کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ایس آئی آر عمل کے دوران تمام ضروری دستاویزات جمع کرانے کے بعد میرے شوہر، بیٹے اور میرا نام ابتدائی ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم تینوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں اور ممبئی کی حتمی ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے ہمیں مزید دستاویزات جمع کرانے ہوں گے اور خود جا کر پیش ہونا ہوگا۔‘‘ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ’’چلیے ملتے ہیں ممبئی کی الیکٹورل آفس کی قطار میں۔‘‘Despite submitting all the required documentation during the SIR process, my husband, son and I were all included in the initial electoral roll.We’ve now been informed that all three names have been removed from the electoral rolls and that we need to submit additional…— Priyanka Chaturvedi (@priyankac19) September 23, 2026اس کے علاوہ ایس آئی آر عمل میں بے ضابطگیوں پر 2 الیکشن کمشنرز کے اعتراض سے متعلق خبر پر بھی پرینکا چترویدی نے الیکشن کمیشن پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی 3 الیکشن کمشنرز میں سے 2 ہیں، جبکہ تیسرے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ہیں۔ گزشتہ 10 ماہ کے دوران ان دونوں کمشنرز نے ایس آئی آر کے نفاذ کے دوران کمیشن کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر 14 بار باضابطہ طور پر اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ووٹرس کے نام شامل کرنے، ہٹانے اور بحال کرنے کے بارے میں انہیں اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔ الیکشن کمشنرز نے نئے ووٹرس سے متعلق اقدامات کو ’غیر مجاز اور غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ووٹر ڈیٹا بیس تک رسائی کو دہلی میں مرکزی سطح پر مرکوز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ زمینی سطح پر کام کرنے والے افسران کو نظرانداز کیا گیا ہے۔‘‘- Sukhbir Singh Sandhu and Vivek Joshi are two of the three election commissioners, the third being CEC Gyanesh Kumar - in the past 10 months the two commissioners have objected 14 times on record to steps taken by the commission in the SIR rollout -they say they have been kept…— Priyanka Chaturvedi (@priyankac19) September 23, 2026ایک دیگر ’ایکس‘ پوسٹ میں پرینکا چترویدی نے کہا کہ ’’اب چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ اس انکشاف نے الیکشن کمیشن کے کام کاج میں موجود مسائل کو سب کے سامنے لا دیا ہے۔ یہ کوئی ایسی جاگیر نہیں ہے جسے چیف الیکشن کمشنر اپنی مرضی سے چلائیں، بلکہ یہ قواعد پر مبنی ایک قانونی ادارہ ہے، جس کا مقصد انتخابی فہرستوں اور انتخابات کی غیر جانبداری برقرار رکھنا ہے۔ باقی 2 الیکشن کمشنرز نے جو بھی اعتراضات اٹھائے ہیں، ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہو رہا تھا۔‘‘Time for CEC to step down, this expose has laid bare the problems in EC functioning, it isn’t a fiefdom that CEC was running but a statutory body based on rules to follow to ensure integrity of electoral rolls and elections is maintained. All the objections raised by the other 2… https://t.co/60BTrWglSB— Priyanka Chaturvedi (@priyankac19) September 23, 2026