اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کانگریس دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی غریب اور بے زمین آبادی کو مخصوص قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے انسداد مظالم قانون (ایس سی/ایس ٹی ایکٹ) کی طرز پر ایک نیا قانون بنانے پر غور کر رہی ہے۔یہ تجویز اتر پردیش میں پارٹی کی سماجی بنیاد کو وسیع کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو 1989 سے ریاست میں اقتدار سے باہر ہے۔ راہل گاندھی کی قیادت میں پارٹی نے او بی سی طبقات تک اپنی رسائی بڑھائی ہے اور مسلسل ’جس کی جتنی حصہ داری، اس کی اتنی بھاگیداری‘ کے اصول پر زور دیا ہے، جس کے تحت آبادی کے تناسب سے نمائندگی کی بات کی جاتی ہے۔مجوزہ قانون کو اسمبلی انتخابات کے لیے کانگریس کے انتخابی منشور میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے او بی سی محکمہ کے چیئرمین انل جے ہند نے نیشنل ہیرالڈ سے گفتگو میں کہا کہ اگر پارٹی ریاست میں اقتدار میں آتی ہے تو ایسا قانون بنایا جائے گا۔ جے ہند کے مطابق او بی سی ایک بڑی آبادی پر مشتمل زمرہ ہے، لیکن اس کے اندر کئی چھوٹی برادریاں اب بھی سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر پسماندہ ہیں اور انہیں خاص طور پر مشکل حالات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کو آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہے اور ان کے لیے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ موجود ہے، لیکن او بی سی کے اندر بھی ایسے طبقات ہیں جو انتہائی کمزور ہیں اور انہیں اس نوعیت کا کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔جے ہند نے کہا کہ اتر پردیش میں نائی، پرجاپتی، کشواہا اور وشوکرما جیسی برادریاں غریب اور بے زمین او بی سی آبادی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کے بقول خاص طور پر دیہی علاقوں میں ان برادریوں کو امتیازی سلوک اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سماجی گروپوں کی غربت سے متعلق 2004-05 کے تخمینوں میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت اتر پردیش کی شہری او بی سی آبادی کا 36.6 فیصد اور دیہی او بی سی آبادی کا 32.9 فیصد مقررہ سرکاری خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا تھا۔ جے ہند نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی نے ان برادریوں کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔تاہم مجوزہ قانون ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کانگریس نے اس معاملے پر اپنے اتحادیوں سے بات چیت کی ہے تو جے ہند نے کہا کہ مشاورت ابھی شروع نہیں ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اتحاد کی نوعیت کا حتمی فیصلہ پارٹی کی قیادت کرے گی، تاہم کانگریس اس معاملے کو اپنے طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی۔اتر پردیش کے لیے زیرِ غور یہ تجویز بہار میں کانگریس کی قیادت والے مہاگٹھ بندھن کی انتہائی پسماندہ طبقات (ای بی سی) تک رسائی کی حکمت عملی سے بھی متاثر ہے۔ 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل مہاگٹھ بندھن نے ’اتی پچھڑا نیائے سنکلپ‘ کے نام سے 10 نکاتی پروگرام پیش کیا تھا۔ اس میں ایس سی، ایس ٹی قانون کی طرز پر انتہائی پسماندہ طبقات کے خلاف مظالم کی روک تھام کے لیے قانون بنانے کا وعدہ بھی شامل تھا۔بہار کے اس پروگرام میں پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اداروں میں ای بی سی کے لیے ریزرویشن 20 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کرنے، بے زمین ای بی سی خاندانوں کو رہائشی زمین فراہم کرنے، تعلیم، سرکاری ٹھیکوں اور ریزرویشن سے متعلق دیگر اقدامات کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔اب کانگریس اتر پردیش میں اپنی او بی سی تک رسائی کی حکمت عملی کے تحت ان میں سے بعض اقدامات کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی بھی 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اتر پردیش میں او بی سی برادریوں تک اپنی رسائی بڑھا رہی ہے۔بی جے پی او بی سی مورچہ نے 75 بڑی پسماندہ ذاتوں کو ہدف بنا کر گھر گھر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد بوتھ کی سطح پر تنظیمی نیٹ ورک کو مضبوط کرنا اور مختلف او بی سی برادریوں کے ساتھ رابطے کو مزید گہرا کرنا ہے۔ جولائی میں متھرا میں منعقدہ مورچہ کے ریاستی ایگزیکٹو اجلاس میں اس حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔سیاسی مبصرین کانگریس کی او بی سی تک رسائی کو اتر پردیش میں مختلف سماجی طبقات کے درمیان حمایت کے وسیع تر مقابلے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ریاست میں اپوزیشن کا پی ڈی اے یعنی پسماندہ طبقات، دلت اور اقلیتوں کا سیاسی اتحاد ایک اہم سیاسی موضوع بن چکا ہے۔ دوسری جانب بی جے پی غیر یادو او بی سی برادریوں میں اپنی حمایت کو مستحکم کرنے کے لیے تنظیمی سرگرمیوں اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے ذریعے رابطہ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔اگر کانگریس کی زیرِ غور تجویز عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس سے پارٹی کے سماجی انصاف کے ایجنڈے میں ایک نیا پہلو شامل ہو سکتا ہے۔ اس کے تحت توجہ صرف ریزرویشن تک محدود رکھنے کے بجائے او بی سی کے غریب اور بے زمین طبقات کے لیے قانونی تحفظ اور فلاحی اقدامات پر بھی مرکوز ہوگی۔