واشنگٹن: صدر ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف پابندیوں کی پوری تیاری کر لی ہے اور انھیں جلد نافذ کرنے کا اعلان کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کی پیروی کرنے والی عالمی عدالت کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کبھی پوشیدہ نہیں رکھی اور اسے کمزور کرنے کے لیے اقدامات کرتی رہی ہے، تاہم یہ اقدام عالمی عدالت کے خلاف واشنگٹن کی کارروائی کو مزید سخت کر دے گا۔امریکی حکام چاہتے ہیں کہ عدالت اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹس واپس لے، جب کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف کی جانے والی سابقہ تحقیقات بھی ختم کرے۔مجوزہ پابندیوں کے تحت 6 سے 7 ماہ کی مہلت کے بعد آئی سی سی پر زیادہ تر مالی و تجارتی لین دین پر پابندی ہوگی۔ عالمی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یووو گیلنٹ کے گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے، جنھیں امریکا مسترد کر چکا ہے۔ٹرمپ پزشکیان ملاقات، اقوام متحدہ اجلاس کے موقع پر اہم پیش رفت کا امکانامریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جولائی میں عدالت کو تنہا کرنے کی مہم کا اعلان کرتے ہوئے دیگر ممالک سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس عدالت سے دست بردار ہو جائیں۔ واشنگٹن پہلے ہی آئی سی سی کے متعدد ججوں اور پراسیکیوٹرز پر پابندیاں عائد کر چکا ہے، تاہم اب تک خود عدالت پر پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق عدالت کے خلاف پابندیاں تیار کر لی گئی ہیں، تاہم ان کے اعلان کا حتمی وقت ابھی واضح نہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران رواں ہفتے ہی اس فیصلے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔اگر پوری تنظیم کو براہِ راست نشانہ بنایا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والے اداروں کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا جاتا ہے تو اس سے عدالت کا کام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔روئٹرز کے مطابق اگر امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے پوری تنظیم پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو محکمۂ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول کے لائسنس کے بغیر اس عدالت کو رقم، اشیا یا خدمات فراہم کرنے سے روک دیا جائے گا۔ بینک اکثر ایسی امریکی پابندیوں پر ضرورت سے زیادہ سختی سے عمل کرتے ہیں، کیوں کہ ان کا انحصار امریکی مالیاتی نظام تک رسائی پر ہوتا ہے۔عدالت کے رجسٹرار اور صدر خبردار کر چکے ہیں کہ پوری تنظیم پر پابندیوں سے اس کے متعدد امور متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں آئی ٹی خدمات اور انشورنس کی خریداری، تفتیش کاروں کی خدمات حاصل کرنا اور روزمرہ کے مالی معاملات، مثلاً درجنوں امریکی ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی، شامل ہیں۔یاد رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) 2002 میں عالمی برادری نے جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات چلانے کے لیے قائم کی تھی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت ہی دائرۂ اختیار استعمال کرتی ہے جب کسی رکن ملک کی حکومت خود ہونے والے مظالم کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہو یا ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہو۔ جب کہ امریکا کبھی بھی اس عدالت کا رکن نہیں رہا۔