ٹی ایم سی تنازعہ: ممتا بنرجی کی عرضی پر فوری سماعت کو سپریم کورٹ نے دی ہری جھنڈی

Wait 5 sec.

سپریم کورٹ نے ممتا بنرجی کی عرضی پر فوری سماعت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ سینئر وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلی اور ٹی ایم سی لیڈر ممتا بنرجی کی عرضی کا ذکر کیا۔ مذکورہ عرضی میں پارٹی کے اندر چل رہے قیادت کے تنازعہ کے درمیان الیکشن کمیشن (ای سی آئی) کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس میں ممتا بنرجی کے گروپ کو اصل ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ (ٹی ایم سی) کا نام اور پارٹی کے روایتی ’پھول اور گھاس‘ کے انتخابی نشان کا استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ سابق وزیر اعلی الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ کپل سبل نے الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ اس کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی قیادت والی بنچ نے اس معاملے کو سماعت کے لیے لسٹ کرنے پر رضا مندی ظاہر کی۔Senior Advocate Kapil Sibal mentions a plea filed by former West Bengal Chief Minister and TMC leader Mamata Banerjee in the Supreme Court challenging the Election Commission of India’s (ECI) decision to stop her faction from using the original All India Trinamool Congress (TMC)…— ANI (@ANI) September 21, 2026واضح رہے کہ جمعہ کے روز ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ الیکشن کمیشن کے 17 ستمبر کے عبوری حکم میں دونوں گروپوں کو ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور پارٹی کے ’پھول اور گھاس‘ انتخابی نشان استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا اور اکتوبر میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے الگ الگ نام اور انتخابی نشان منتخب کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ٹی ایم سی تنازعہ: ’اگر الیکشن کمیشن دباؤ میں فیصلے لے رہا ہے تو جمہوریت خطرے میں ہے‘، سنجے راؤتممتا بنرجی گروپ کو ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور ’فٹبال کھلاڑی‘ انتخابی نشان دیا گیا۔ وہیں رتبرت بنرجی-اروپ رائے گروپ کو ’ ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ نام اور ’لفافہ‘ انتخابی نشان ملا۔ ٹی ایم سی کے نام اور انتخابی نشان کو لے کر چل رہے تنازعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے دونوں گروپ کے لیے الگ الگ شناخت طے کر دی ہے۔ ٹی ایم سی کا نام اور انتخابی نشان تقریباً 3 دہائیوں سے مغربی بنگال کی سیاست میں اس کی شناخت ہے، لیکن اب پارٹی کے اندر اختلافات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کا نام اور انتخابی نشان دونوں کو ہی منجمد کر دیا ہے۔