ایران کا کینیڈا کو سخت جواب!

Wait 5 sec.

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کینیڈا کے وزیراعظم کے بیان پر ردعمل آگیا۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ کینیڈین وزیراعظم نے امریکی جارحیت اور جنگی جنون کی مذمت نہیں کی جس سے لگتا ہے کینیڈین وزیراعظم امریکی اقدامات کو درست ثابت کر رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی کو محض جنگی زبان قرار دینا افسوسناک ہے وقت کا مزاج خودفریبی اور منافقت کو زیادہ دیر برقرار نہیں رہنے دیتا، امریکی بدمعاشی کے سائےمیں پناہ لینے والوں کی غلط فہمی جلد آشکار ہو جائے گی۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ طاقتوروں کی ہمنوائی کرنے والے جبر ودباؤ سے محفوظ رہنے کی غلط فہمی میں ہیں آج کا ایران اس بات کی زندہ مثال ہےکہ قومیں جبر کے سامنے ڈٹ جاتی ہیں، ایران کی روشن کردہ مشعل بجھ جاتی تو انسانی تعلقات پر خام طاقت کی حکمرانی ہوتی، تنازعات کےحل کا مہذب اور انسانی راستہ طاقت کی بےرحم منطق تلے دفن ہو جاتا۔کینیڈاکینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کے ظالمانہ جبر میں کردار ادا کرنے پر ایران کے 10 افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں لگادی گئی ہیں۔انیتا آنند کا کہنا تھا کہ کینیڈا ایرانی حکومت کے قابلِ مذمت اقدامات کے خلاف ردعمل دینے کے لیے اپنے اختیار میں موجود ہر ذریعہ استعمال کر رہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ان اقدامات میں عالمی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے لے کر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب شامل ہے۔اُنہوں نے کہا کہ پابندیوں کا نشانہ ایران کے اعلیٰ سکیورٹی اور حکومتی عہدیداروں کے علاوہ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے وہ ادارے بھی ہیں جو ’ڈیجیٹل جبر‘ میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی بھی شامل ہیں۔