فلسطین میں امن صرف امید نہیں، عالمی برادری کو ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے: سفیر ابو شاوِش

Wait 5 sec.

نئی دہلی: ہندوستان میں فلسطین کے سفیر عبداللہ ایم ابو شاوِش نے غزہ کے بحران اور اسرائیلی قبضہ کے معاملہ پر عالمی برادری سے بیان بازی سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں امن کی امید اسی وقت حقیقت بن سکتی ہے جب عالمی برادری متحد ہو کر امن عمل کو عملی شکل دینے کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے۔آئی اے این ایس سے گفتگو میں فلسطینی سفیر نے کہا کہ فلسطین کی موجودہ صورت حال کو محض ’تنازعہ‘ قرار دینا کافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ اسرائیلی قبضہ اور طویل عرصہ سے جاری بحران سے جڑا ہوا ہے، اس لیے عالمی برادری کو اس کی سنگینی کو اسی تناظر میں سمجھنا ہوگا۔ابو شاوِش نے کہا کہ سفارتی اور پرامن حل کی امید ہمیشہ موجود رہتی ہے، لیکن یہ امید اس وقت تک محض نظریاتی رہے گی جب تک عالمی برادری اسے عملی سطح پر نافذ کرنے کے لیے حقیقی اقدامات نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ اب ضرورت صرف امن عمل کا ذکر کرنے کی نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے لیے عملی کارروائی کی ہے۔اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے فلسطینی سفیر نے کہا کہ وہ طویل عرصے تک اس ادارے سے وابستہ رہے ہیں اور اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، لیکن موجودہ نظام میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا زمینی اثر محدود دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ 193 ممالک کی اجتماعی کوششوں کی نمائندگی کرتا ہے، تاہم سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اس کی مؤثریت متاثر ہوتی ہے۔فلسطینی قیادت کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں شرکت کے معاملے پر انہوں نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے مسلسل دوسرے سال فلسطینی اتھارٹی کو امریکہ آنے کا ویزا نہیں دیا، جس کی وجہ سے فلسطینی قیادت جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ذاتی طور پر شریک ہو کر خطاب نہیں کر سکی۔ابو شاوِش نے اس صورت حال کو بین الاقوامی نظام میں عدم مساوات سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایک طرف فلسطینی قیادت کو جنرل اسمبلی میں ذاتی طور پر شرکت سے روکا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیویارک پہنچ رہے ہیں۔فلسطینی سفیر نے امریکی پالیسی پر بھی تنقید کی اور اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کو 40 ہزار بم فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں ہر بم کا وزن 2,000 پاؤنڈ بتایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی فوجی مدد کا اثر صرف سیاسی سطح تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا براہ راست اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی، شامی اور لبنانی خاندانوں کی بڑی تعداد طویل بحران کے دوران اپنے عزیزوں کو کھو چکی ہے۔ابو شاوِش نے کہا کہ عالمی برادری کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف قراردادوں، بیانات اور اپیلوں تک محدود رہے گی یا امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات بھی کرے گی۔ ان کے بقول، عالمی برادری جب بیان بازی سے آگے بڑھ کر عملی قدم اٹھائے گی، تب ہی فلسطین میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے گی۔