مستعفی ہونے والے ارکانِ اسمبلی پر 5 سالہ پابندی کی درخواست مسترد، مدراس ہائی کورٹ نے کہا- ’قانون سازی پارلیمنٹ کا کام‘

Wait 5 sec.

چنئی: مدراس ہائی کورٹ نے ان ارکانِ اسمبلی کو ضمنی انتخابات لڑنے سے روکنے کی درخواست مسترد کر دی ہے جو سیاسی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ درخواست میں مطلوبہ تبدیلیاں موجودہ انتخابی قوانین میں ترمیم سے متعلق ہیں، جنہیں عدالتی حکم کے ذریعے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ یا متعلقہ اسمبلی کا اختیار ہے۔چیف جسٹس سُشرت اروند دھرمادھیکاری اور جسٹس جی. ارول مروگن کی بنچ نے یہ فیصلہ ایک مفادِ عامہ کی عرضی پر سنایا۔ یہ عرضی چنئی کے سائیڈاپیٹ علاقے کے وکیل سودھن نے دائر کی تھی۔درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ جو ارکانِ اسمبلی انتخاب جیتنے کے فوراً بعد سیاسی وجوہات سے استعفیٰ دیتے ہیں، انہیں اس کے بعد ہونے والے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے سے پانچ سال کے لیے روک دیا جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسے استعفوں سے نہ صرف ووٹروں کے مینڈیٹ کی توہین ہوتی ہے بلکہ عوام پر دوبارہ انتخاب کرانے کا اضافی مالی بوجھ بھی پڑتا ہے۔عرضی میں الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت دینے کی بھی درخواست کی گئی تھی کہ ایسے سابق ارکانِ اسمبلی سے ضمنی انتخاب لڑنے کے لیے نامزدگی داخل کرتے وقت اس انتخاب پر آنے والا خرچ جمع کرایا جائے۔ درخواست گزار نے اس مقصد کے لیے قانونی ترمیم کی ضرورت پر بھی زور دیا۔سودھن نے عبوری طور پر مدورانتکم اور دھاراپورم اسمبلی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات پر اس وقت تک روک لگانے کی درخواست کی تھی جب تک ان کی عرضی پر فیصلہ نہ ہو جائے۔سماعت کے دوران درخواست گزار نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کوئی منتخب رکن اسمبلی انتخاب جیتنے کے محض دو ہفتے بعد استعفیٰ دے سکتا ہے اور پھر کسی دوسری سیاسی جماعت کے امیدوار کے طور پر دوبارہ انتخاب لڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی رکن کے اقدام کی وجہ سے دوبارہ انتخاب کرانا پڑے تو اس کے اخراجات کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہونی چاہیے۔درخواست گزار نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر بڑی تعداد میں ارکانِ اسمبلی ایک ہی وقت میں استعفیٰ دے دیں تو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا قانونی طریقہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ موجودہ قانون میں اس حوالے سے کوئی واضح انتظام نہیں ہے، لیکن عدالت عوامی مفاد میں مناسب ہدایات جاری کر سکتی ہے۔الیکشن کمیشن نے عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد کسی منتخب رکن کے استعفیٰ دینے کے فیصلے میں کمیشن کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ کمیشن نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ درخواست قابلِ سماعت نہیں ہے۔ تمام فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد بنچ نے اس بنیادی سوال پر غور کیا کہ کیا عدالت انتخابی قانون میں ایسی تبدیلیاں کرنے کا حکم دے سکتی ہے، جن کا مطالبہ درخواست گزار نے کیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جس کے بعد اب عرضی خارج کر دی گئی۔