نیویارک : موٹاپے سے بچاؤ یعنی وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی دوا ویگووی کی گولی کی شکل ان افراد کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے جن کا وزن گزشتہ چند برسوں کے دوران بڑھا ہے۔حقیقی دنیا کے ابتدائی طبی اعداد و شمار کے تجزیے میں ایسے افراد میں وزن کم ہونے کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔تحقیق میں 3 ہزار 11 ایسے مریضوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا جنہیں ویگووی کی گولی تجویز کی گئی تھی اور علاج شروع ہونے کے بعد 180 دن کے اندر ان کا وزن دوبارہ ریکارڈ کیا گیا۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق محققین نے پایا کہ جن افراد کا وزن نسبتاً حالیہ عرصے میں بڑھا تھا، ان کے ’سپر ریسپانڈر‘ بننے کے امکانات زیادہ تھے۔تحقیق میں سپر ریسپانڈر سے مراد ایسے افراد ہیں جنہوں نے علاج کے دوران اپنے ابتدائی جسمانی وزن کا 10 فیصد سے زیادہ کم کیا۔محققین کے مطابق حالیہ برسوں میں وزن بڑھنے والے افراد میں یہ امکان ان لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھا جن کا وزن بڑھنے کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری تھا۔تحقیق کی سربراہی ڈیٹا اینالیٹکس کمپنی این فیرنس سے وابستہ وینکی ساؤنڈارراجن نے کی۔ ان کے مطابق اس بات سے قطع نظر کہ کسی شخص کی عمر 30، 60 یا 90 سال ہے، اگر اس نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران نمایاں وزن حاصل کیا ہے تو چند ماہ کے علاج کے اندر اس اضافی وزن کو کم کرنے کے امکانات زیادہ ہوسکتے ہیں، جبکہ کئی برسوں سے مسلسل وزن بڑھنے والے افراد میں یہ ردعمل نسبتاً مختلف ہوسکتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ویگووی گولی کے ’’سپر ریسپانڈرز‘‘ کا علاج شروع کرتے وقت اوسط وزن تقریباً 207 پاؤنڈ (94.1 کلوگرام) تھا، جبکہ ان افراد کا اوسط وزن جنہوں نے اتنا نمایاں ردعمل ظاہر نہیں کیا، 224.21 پاؤنڈ (101.7 کلوگرام) تھا۔محققین نے یہ بھی دیکھا کہ جو افراد زیادہ نمایاں وزن کم کرنے میں کامیاب ہوئے، ان میں علاج کے 60ویں دن تک ابتدائی 1.5 ملی گرام خوراک سے زیادہ خوراک تک پہنچنے کا امکان بھی زیادہ تھا۔تحقیق میں ویگووی گولی کے استعمال کے دوران بلڈ پریشر میں بھی بہتری دیکھی گئی، مریض جتنا زیادہ وزن کم کرتے گئے، ان کے بلڈ پریشر میں کمی بھی اسی تناسب سے زیادہ دیکھی گئی۔امریکا میں ویگووی کی گولی کو گزشتہ سال دسمبر میں منظوری دی گئی تھی۔ موجودہ تجزیے میں شامل کسی بھی مریض نے اس سے قبل دیگر جی ایل پی ون ادویات استعمال نہیں کی تھیں، جس سے محققین کو ویگووی گولی کے استعمال کے نتائج کو الگ سے دیکھنے کا موقع ملا۔تاہم ماہرین نے تحقیق کے نتائج کو حتمی قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ یہ رپورٹ ابھی پیر ریویڈ طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی اور محققین خود بھی واضح کرتے ہیں کہ موجودہ نتائج کسی سبب اور نتیجے کا حتمی ثبوت فراہم نہیں کرتے۔تحقیق کے مصنفین کے مطابق مزید جامع اور سخت سائنسی مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ علاج شروع کرنے سے پہلے کسی فرد کے وزن میں اضافے کی تاریخ واقعی اس بات کی پیش گوئی کرسکتی ہے یا نہیں کہ وہ ویگووی سے کتنا فائدہ اٹھائے گا۔متوازن غذا کے بعد بھی وزن میں کمی کیوں نہیں ہوتی؟ وجہ سامنے آگئی