13 افراد کا سفاک قاتل 40 سال بعد جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار

Wait 5 sec.

واشنگٹن : رشتہ دار کے ڈی این اے نے بدنام زمانہ’گولڈن اسٹیٹ کلر‘ کو 40 سال بعد گرفتار کرا دیا، خطرناک مجرم جوزف جیمز ڈی اینجیلو نے 13 افراد کے قتل کا اعتراف کیا۔امریکا کے بدنام زمانہ سیریل کلر ’گولڈن اسٹیٹ کلر‘ کی شناخت روایتی فنگر پرنٹ، عینی شاہد یا براہ راست ڈی این اے ٹیسٹ سے نہیں ہوئی بلکہ ایک ایسے رشتہ دار کے جینیاتی ڈیٹا نے پولیس کو قاتل تک پہنچایا جسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کی فراہم کردہ معلومات کسی سنگین جرم کی گتھی سلجھانے میں استعمال ہوسکتی ہیں۔گولڈن اسٹیٹ کلر کی شناخت جوزف جیمز ڈی اینجیلو کے طور پر 2018 میں ہوئی، تفتیش کاروں نے ایک جینیاتی ویب سائٹ جی ای ڈی میچ پر دستیاب ڈی این اے معلومات کی مدد سے اس تک پہنچنے کا راستہ تلاش کیا۔اس شخص نے 1970 اور 1980 کی دہائیوں کے دوران کیلیفورنیا میں 13 قتل اور 50 سے زائد زنا بالجبر (ریپ) کیے۔ وہ ایک سابق پولیس افسر تھا، اسی لیے وہ واردات کے بعد بڑی چالاکی سے اپنے نشانات اور ثبوت مٹا دیتا تھا اس طرح وہ 40 سال تک قانون کی گرفت سے محفوظ رہا۔رپورٹ کے مطابق کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب ڈی اینجیلو کے خاندان کے ایک دور کے رشتہ دار نے اپنے آباؤ اجداد اور خاندانی شجرے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک صارف جینیاتی ٹیسٹ کروایا۔اس مقصد کے لیے اس نے اپنے لعاب کا نمونہ ایک نجی کمپنی کو بھیجا اور بعد میں حاصل ہونے والا خام جینیاتی ڈیٹا جی ای ڈی میچ پر اپ لوڈ کردیا۔جی ای ڈی میچ بنیادی طور پر ایسے افراد کے لیے بنایا گیا تھا جو اپنے خاندانی شجرے کی گمشدہ کڑیاں تلاش کرنا چاہتے تھے، تاہم 2018 میں تفتیش کاروں نے اسی پلیٹ فارم پر ایک جرم کے مقام سے حاصل کیے گئے جینیاتی پروفائل کا موازنہ کیا۔نام تو نہ مل سکا، سیکڑوں رشتہ دار مل گئےڈی این اے موازنہ کرنے کے بعد تفتیش کاروں کو کسی شخص کا نام براہ راست نہیں ملا بلکہ ایک ہزار سے زیادہ دور کے جینیاتی رشتہ دار سامنے آئے، ان میں بیشتر تیسرے درجے یا اس سے بھی دور کے کزن تھے۔یہ معلومات بظاہر ایک بہت بڑے ہجوم میں کسی نامعلوم شخص کو تلاش کرنے کے مترادف تھیں، لیکن جینیاتی ماہر باربرا رے وینٹر نے تفتیش کار پال ہولز کے ساتھ مل کر ان رشتہ داروں کے خاندانی شجروں کا جائزہ لینا شروع کیا۔وہ ان افراد کے شجرہ نسب سے ان کے مشترکہ آباؤ اجداد تلاش کرتی رہیں اور پھر ان خاندانی سلسلوں کی کاٹ چھانٹ کرتے ہوئے ممکنہ ملزمان کی فہرست مرتب کی۔ جس کے بعد صرف 6 نام باقی رہ گئے۔تفتیش کاروں نے ان 6 افراد کے کیلیفورنیا کے ڈرائیونگ لائسنس ریکارڈز کا جائزہ لیا، ان میں صرف ایک شخص کی آنکھیں نیلی تھیں، جبکہ رے وینٹر نے جرم کے مقام سے حاصل کیے گئے جینیاتی نمونے کی بنیاد پر آنکھوں کے رنگ سے متعلق پیش گوئی کی تھی۔ جی ہاں !! وہی شخص جوزف جیمز ڈی اینجیلو تھا۔واردات کا ثبوت کچرے سے ملاڈی اینجیلو کی شناخت سامنے آنے کے بعد پولیس نے اس کی نگرانی شروع کی، تفتیش کاروں نے اس کے پھینکے ہوئے کچرے سے ایک استعمال شدہ اسٹرا حاصل کیا اور بعد میں ایک شاپنگ سینٹر میں اس کی گاڑی کے دروازے کے ہینڈل سے بھی ڈی این اے نمونہ حاصل کیا۔ان نمونوں کا موازنہ جرم کے مقام سے حاصل شدہ ڈی این اے سے کیا گیا تو دونوں میں مطابقت سامنے آگئی۔ڈی اینجیلو کو آخر کار اپریل 2018 میں گرفتار کرلیا گیا، بعد ازاں 2020 میں اس نے قتل کی 13 وارداتوں کا اعتراف کیا اور اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔گولڈن اسٹیٹ کلر کی گرفتاری نے جہاں تفتیشی دنیا میں جینیاتی تحقیق کے استعمال کو نئی اہمیت دی، وہیں ذاتی ڈی این اے اور پرائیویسی کے حوالے سے بڑے سوالات بھی اٹھائے۔یوں گولڈن اسٹیٹ کلر کیس نے نہ صرف امریکا کے ایک طویل عرصے سے حل طلب سیریل قتل کیس کو انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ یہ سوال بھی نمایاں کردیا کہ کسی فرد کا جینیاتی ڈیٹا دراصل صرف اس فرد کا معاملہ ہے یا اس کے پورے خاندان سے جڑی معلومات بھی اس میں شامل ہوتی ہیں؟1979 میں خاتون کو قتل کرنیوالے شخص کو ڈی این اے کی مدد سے گرفتار کرلیاگیا