ایران جنگ سے تیل کا نیا بحران، بحری جہازوں کی قلت، سپر ٹینکر کا کرایہ 10 لاکھ ڈالر یومیہ سے تجاوز

Wait 5 sec.

واشنگٹن: ایران جنگ نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں نیا بحران پیدا کر دیا ہے، خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی قلت پیدا ہو گئی۔امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بند ہونے سے خام تیل کی بڑی مقدار ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی طرف منتقل ہو گئی ہے، جس سے آئل ٹینکرز کے کرائے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔خام تیل لے جانے والے سپر ٹینکرز کی دستیابی میں کمی نے تیل ترسیل کی لاگت کو بلند ترین سطح تک پہنچا دیا، خلیج فارس کے اندر سے تیل لوڈ کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے سپر ٹینکر کا کرایہ 10 لاکھ ڈالر یومیہ سے تجاوز کر گیا، یہ لاگت 26 ڈالر فی بیرل یا خام تیل کی کل مالیت کا ایک چوتھائی بنتی ہے۔ٹینکرز کی یہ قلت صرف مشرق وسطی تک محدود نہیں رہی، بلکہ مغربی افریقہ سے چین جیسے دنیا بھر کے دیگر روٹس پر بھی کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح پہلی بار 29 فی صد رہ گئیعالمی سطح پر سپر ٹینکر کی اوسط یومیہ کمائی 6 لاکھ 51 ہزار ڈالر سے زائد ہو گئی، جو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بند ہونے سے ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں دگنی ہے۔حملوں کے پیش نظر بحری جہازوں نے باب المندب سے گزرنا بند کر دیا ہے، سعودی بحری جہاز جنوبی افریقہ میں ’کیپ آف گڈ ہوپ‘ کے طویل متبادل راستے سے سفر کر رہے ہیں، جس سے فی جہاز دس لاکھ ڈالر کا اضافی خرچ آ رہا ہے۔