ریاض (22 ستمبر 2026): سعودی عرب نے اسرائیلی متعصب وزیر اتمار بن گویر کی آبادکاروں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ میں داخلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کو کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری مذمتی بیان میں اتمار بن گویر کے اس اقدام کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ بن گویر اور آباد کاروں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی حفاظت میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بولا، جو بین الاقوامی قوانین ک خلاف ورزی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینیوں اور مقدس مقامات کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات، غیر قانونی اور انتہا پسندانہ طرزِ عمل، نیز تشدد پر اکسانے کی کارروائیوں کو مسترد کرتا ہے۔سعودی وزارت خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے کیونکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو یہودیوں کے مقدس دن کے موقع پر اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے آبادکاروں کے گروہ کے ہمراہ سخت سکیورٹی حصار میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے کے صحن میں داخل ہوئے تھے۔حالیہ ہفتوں کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہے کہ بن گویر مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے اور بظاہر اس کے مشرقی حصے میں تالمودی دعائیں ادا کیں۔