ایران معاہدہ چاہتا ہے مجھے بھی معاہدے کرنا پسند ہے لیکن تجویز مسترد کرتا ہوں، ٹرمپ

Wait 5 sec.

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران معاہدے چاہتا ہے اور مجھے بھی معاہدے کرنا پسند ہے لیکن ایرانی تجویز ناقابل قبول ہے جسے مسترد کرتا ہوں۔امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم ایک بڑی کامیابی حاصل ررہے ہیں اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کررہے ہیں جہاں سے تیل کی بھاری ترسیل ہوتی ہے اور گزشتہ رات 29 جہاز وہاں سے گزرے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز فوری دوبارہ کھولنا چاہتا ہے کیونکہ اسے بھاری نقصان کا سامنا ہے۔یہ پڑھیں: بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن دھونس یا زبردستی قبول نہیں، ایرانی صدرامریکی صدر نے کہا کہ ایران کو نقصانات کا سامنا ہے کیونکہ اسے رقم نہیں مل رہی اور ان کی آمدنی کا ذریعہ آبنائے ہرمز ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم کیوبا کو اپنے عوام کے لیے کھولنا چاہتے ہیں۔اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی، رہبرِ معظم کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی تیاری حرام قرار دی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں کچھ افراد جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں تو انہیں ایسا مذہبی حق حاصل نہیں۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایسے وقت پر رہبر معظم کو شہید کیا جب مفاہمت تک پہنچ چکے تھے، امریکا کا مقصد مسئلے کو حل کرنا نہیں بلکہ ہمارے نظام کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔