نانا پاٹیکر کی کوئی بیٹی ہی نہیں، پھر ناتی کے کان میں اذان کس طرح دلوا دی؟ فرضی تصویر ہو رہی وائرل

Wait 5 sec.

نانا پاٹیکر کی کچھ تصویریں اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بہت تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہیں، جس میں وہ ایک نومولود بچہ گود میں لیے ہوئے ہیں۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ نانا پاٹیکر کا ناتی ہے اور اس کے کان میں نانا پاٹیکر نے اذان دلوائی ہے۔ حالانکہ یہ ویڈیو پوری طرح سے فرضی ہے، کیونکہ نانا پاٹیکر کی کوئی بیٹی ہی نہیں۔ کچھ میڈیا رپورٹس سے پتہ چلا ہے کہ نانا پاٹیکر کے ایک بیٹے کا انتقال ہو چکا ہے اور ایک بیٹا زندہ ہے جس کا نام ملہار پاٹیکر ہے۔ ان کی کوئی بیٹی نہیں، اس لیے ناتی کی پیدائش والی خبر غلط ہے۔فرضی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے ’فیکٹ چیک‘ بھی کیا ہے، جس سے پتہ چلا ہے کہ تصویریں اے آئی، یعنی مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہیں۔ تصویر میں نانا پاٹیکر اور نومولود بچہ کے ساتھ جس مولانا کو دکھایا گیا ہے، وہ بھی اے آئی سے ہی تیار کردہ ہے۔ یہ بات درست ہے کہ نانا پاٹیکر نے مختلف مواقع پر دیے گئے انٹرویو میں اسلام مذہب کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کیا ہے اور اذان سے متعلق بھی انھوں نے تعریفی کلمات کہے ہیں، لیکن ناتی کے کان میں اذان دینے کی بات مکمل طور پر فرضی ہے۔قابل ذکر ہے کہ عامر اعظمی سون نامی فیس بک ہینڈل سے 2 تصویریں 24 ستمبر کو شیئر کی گئی تھیں۔ ایک تصویر میں نانا پاٹیکر نومولود بچے کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں اور دوسری تصویر میں نانا پاٹیکر، نومولود بچہ اور ایک مولانا نظر آ رہے ہیں۔ دوسری تصویر میں مولانا نومولود بچہ کو بوسہ دے رہے ہیں۔ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’بالی ووڈ کے مشہور اداکار نانا پاٹیکر نے کسی بھی طرح کی پروا کیے بغیر کھلے عام اسلام اور اذان کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ ہندوستانی میڈیا کے مطابق اپنے ناتی کی پیدائش پر نانا پاٹیکر نے نام رکھنے کے روایتی ہندو رسموں کی جگہ مہاراشٹر کے ایک مدرسہ سے مدرس کو بلا کر بچے کے کان میں اذان دلوائی۔‘‘ حالانکہ اس پوسٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کس ہندوستانی میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی ہے۔سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مدرسہ کے 120 سے زائد بچوں کے لیے نانا پاٹیکر نے نئے کپڑوں کا تحفہ بھیجا اور ان کے لیے بہترین کھانے کا انتظام کیا۔ اتنا ہی نہیں، نانا پاٹیکر نے ان بچوں کے ساتھ خود بھی بیٹھ کر کھانا کھایا۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں ایک جگہ لکھا گیا ہے ’’اس عمل پر ہندو شدت پسند حلقوں کی طرف سے تنقید کی گئی، تو نانا پاٹیکر نے بغیر کسی خوف کے بے باک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا– میں اپنے دم پر کماتا اور جیتا ہوں، مجھے کسی کی پروا نہیں۔‘‘دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ اسی طرح کی پوسٹس مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی ہیں۔ کچھ پوسٹس میں تصویریں ڈالی گئی ہیں اور کچھ پوسٹس میں ویڈیو ہے۔ یہ پوسٹس خوب شیئر کی جا رہی ہیں، لیکن فیکٹ چیک میں سچائی سامنے آ چکی ہے اور یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ اے آئی کا غلط استعمال کر فرضی خبریں پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے، جب اے آئی کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ قبل میں کئی بڑی ہستیوں کی تصویروں اور ویڈیوز کو اے آئی کے استعمال سے غلط رنگ دیا جا چکا ہے۔ کئی معاملوں میں تو پولیس کی طرف سے سخت کارروائی بھی ہوئی ہے۔