(24 ستمبر 2026): وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی حمایت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی صدر سے ملاقات کو کامیاب قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران اسلام آباد ایم او یو کو قابل قبول سمجھتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔شہباز شریف کے مطابق پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اسلام آباد ایم او یو کے تحت امن کوششوں کو تیز کرنے کے لیے مل کر کام کر رہی ہے۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور باب المندب اور آبنائے ہرمز کے اطراف اشتعال انگیزی کے خاتمے کے لیے دوست ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر نے کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔یہ بھی پڑھیں: ایران کو تباہ نہیں کر سکتے، ایرانی صدر کا ٹرمپ کے بیان پر ردعملوزیر اعظم نے ایران کو پاکستان کا دوست، ہمسایہ اور برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔شہباز شریف نے سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان رابطے اور تعاون کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو حالیہ سفارتی کامیابیوں میں مدد ملی ہے، جبکہ ملکی معاشی استحکام کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔دہشت گردی کے معاملے پر وزیراعظم نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ افغانستان سے آنے والے عسکریت پسند ان کارروائیوں میں ملوث ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک دہشت گردی کی لعنت کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا، جبکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔