نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ایسی پوسٹ کی ہے جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپوزیشن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف کارروائی اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔راہل گاندھی نے اپنے پوسٹ میں لکھا، ’’مجھے سمندر میں تب تیرنا پسند ہے، جب لہریں تیز ہوں۔ اس سے یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ افراتفری بھی سکون کی ایک شکل ہے۔‘‘ ان کے اس بیان کو موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں کسی مخصوص واقعے یا شخصیت کا براہ راست ذکر نہیں کیا۔سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم اس وقت تیز ہوئی جب الیکشن کمیشن کے ارکان کے درمیان اختلافات سے متعلق میڈیا رپورٹس سامنے آئیں۔ کانگریس سمیت ’انڈیا‘ اتحاد میں شامل کئی جماعتوں نے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی سمیت مختلف مقامات پر احتجاج بھی کیا ہے۔اسی دوران کیرالہ کانگریس نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ گیانیش کمار نے ان سے رابطہ کیا تھا اور انہیں بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کی پیشکش کی تھی۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو ایک سرکاری افسر کو ایسی سیاسی پیشکش کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا۔راہل گاندھی نے اس معاملے پر بھی ایک پوسٹ میں گیانیش کمار پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب وہ آئی اے ایس افسر تھے، اس وقت انہیں بی جے پی کے لیے لوگوں کو سیاسی طور پر جوڑنے کے لیے استعمال کیا گیا اور بعد میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے انہیں ’امپائر‘ بنا دیا۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن حکومت کے دباؤ میں کام کر رہا ہے اور اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے ذریعے ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن ان الزامات کے درمیان اپنی وضاحت پیش کر چکا ہے۔I love swimming in the sea when it's rough. It teaches you that rough is just another kind of calm.— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) September 27, 2026کمیشن کے مطابق 24 جون 2025 کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ایس آئی آر کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ کمیشن نے کہا کہ یہ فیصلہ اس کی متفقہ منظوری سے لیا گیا تھا۔ بعد میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کے پروگرام بھی کمیشن کی متفقہ منظوری سے جاری کیے گئے۔بی جے پی نے بھی اپوزیشن کے الزامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایس آئی آر سے متعلق فیصلے کمیشن کی متفقہ منظوری سے لیے گئے تھے تو پھر کمشنروں کے درمیان اختلاف کی بات کیسے سامنے آئی۔