فرانسیسی صدر میکرون نے غزہ کی صورتحال پر عالمی برادری کو کھری کھری سنادی

Wait 5 sec.

نیویارک(23 ستمبر 2026): اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون غزہ ڈپلومیسی پر برس پڑے اور عالمی رہنماؤں کو کری کھری سنا دیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ غزہ میں نام نہاد امن کے باوجود تاحال کوئی انسانی راہداری نہیں کھولی گئی، جو کہ ہم سب کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں قابضین کا بڑھتا ہوا تشدد فلسطینی عوام کے وجود کے جائز حق کو ختم کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ دنیا کو جنگل کے قانون اور مہذب عالمی معاشرے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔میکرون نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں ہے، اور جرائم پر احتساب سے استثنیٰ کے اس نظام کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا جسے کچھ لوگ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بچوں سمیت بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور وہاں اب بھی انتہائی ناکافی مقدار میں امداد پہنچ رہی ہے۔برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی توسیع کا عمل جاری ہے، وہاں آباد کاروں کے تشدد میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ای ون نامی وسیع و عریض بستی کے منصوبے پر عمل درآمد ہوا تو مشرقی یروشلم مغربی کنارے سے کٹ جائے گا۔ یہ ’دو ریاستی حل‘ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔