کیمپس میں احتجاج سے لے کر کرائم برانچ کی جانچ تک، آئی آئی ٹی بامبے میں ساحل کی موت کے بعد کیا کچھ ہوا!

Wait 5 sec.

آئی آئی ٹی بامبے میں بی ٹیک سال دوئم کے طالب علم ساحل رویندر وکوڑے کی موت کی جانچ اب ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کر رہی ہے۔ اس دوران گزشتہ 3 دنوں سے آئی آئی ٹی کیمپس میں طلبا کا احتجاج جاری ہے، ساتھ ہی طلبا نے ادارے میں انتظامی جوابدہی اور تادیبی عمل میں اصلاح کے لیے 18 نکاتی مطالباتی خط پیش کیا ہے۔طالب علم کی موت سے پیدا ہوئے تنازعہ کے درمیان آئی آئی ٹی بامبے نے اپنے اس بیان کے لیے معافی مانگی ہے جو طالب علم کی موت کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی آئی آئی ٹی نے ادارے کے پروفیسر اور انتظامی امور کے ڈین سوریہ نارائن ڈولا کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ لیکن طلبا اس مطالبے پر قائم ہیں کہ پروفیسر ڈولا کو صرف ڈین کے عہدے سے ہٹانا کافی نہیں ہے، انہیں پروفیسر کے عہدہ سے بھی معطل کیا جانا چاہیے۔اس دوران ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے اپنی جانچ شروع کر دی ہے۔ طالب علم ساحل رویندر وکوڑے کے والد نے پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے کو کافی عرصہ سے ذات کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا تھا۔ تاہم ابھی ان الزامات کو ثابت نہیں کیا جا سکا ہے، اور آئی آئی ٹی نے کہا ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ ہونے کے بعد جو بھی ضروری کارروائی ہوگی، وہ کی جائے گی۔پورا واقعہ سمجھیے18 ستمبر 2026: امتحان کے دوران واقعہ اور ساحل کی موتساحل وکوڑے آئی آئی ٹی کے انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ کا طالب علم تھا۔ 18 ستمبر کو مڈ سیمسٹر امتحان تھا۔ میڈیا رپورٹ میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ امتحان ہال میں دوپہر 12.30 بجے سے 12.45 بجے کے درمیان وہ کئی بار اپنا فون استعمال کرتا ہوا پایا گیا۔ساحل کی موت کے بعد آئی آئی ٹی بامبے کا جو پہلا بیان سامنے آیا تھا، اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ساحل نے سوالات کے جوابات جاننے کے لیے سوالنامہ اے آئی پلیٹ فارم چیٹ جی پی ٹی پر اپلوڈ کیا تھا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس واقعہ کے بعد انسٹرکٹر اور اس کے فیکلٹی ایڈوائزر کے ساتھ ہی شعبہ کے سربراہ نے اس کی کاؤنسلنگ کی تھی کہ اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی۔سی سی ٹی وی کو بنیاد بنا کر سامنے آئی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعہ کے بعد ساحل امتحان کے کمرے سے نکل کر اپنے ہاسٹل کی طرف چلا گیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر دکھائی دیا ہے کہ وہ تقریباً 1.25 بجے ہاسٹل نمبر 4 کی طرف جاتا ہوا دیکھا گیا۔ اسی دن کچھ دیر بعد وہ اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ اس کے کمرے سے کوئی خودکشی نوٹ برآمد نہیں ہوا ہے۔امتحان کے کمرے میں موجود انویجیلیٹر اور دیگر پروفیسر کے ساتھ ساحل کی کیا بات چیت ہوئی، یہ واضح نہیں ہے۔ نہ ہی یہ واضح ہے کہ اسے دھمکایا گیا تھا یا نہیں، یا اس کے خلاف کسی کارروائی کی بات ہوئی تھی یا نہیں۔19 ستمبر 2026: خاندان نے ایف آئی آر درج کرائیپولیس نے ساحل کی موت کے معاملہ میں ابتدا میں حادثاتی موت کا معاملہ درج کیا تھا۔ لیکن 19 ستمبر کو ساحل کے والدین کی شکایت کے بعد بی این ایس کی دفعہ 108 (خودکشی کے لیے اکسانے) کے تحت معاملہ درج کیا گیا۔ ساتھ ہی اس میں ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔ساحل کے والد رویندر چکردھر وانکھیڑے نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ ان کے بیٹے پر گزشتہ تقریباً 3 ماہ سے ذہنی دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور ذات کی بنیاد پر نازیبا الفاظ کہے جا رہے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ساحل نے اس بارے میں خاندان کو بتایا تھا کہ ڈین پروفیسر ڈولا اسے نچلی ذات کا قرار دیتے ہیں اور اسے جھوٹے کیس میں پھنسانے کی دھمکی دیتے ہیں۔والد نے یہ بھی الزام لگایا کہ فیکلٹی ممبر اور انتظامیہ نے ان کے بیٹے پر مسلسل دباؤ بنایا تھا، اور امتحان والا واقعہ اس کی فوری وجہ بنا۔ انہوں نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ موت کی وجہ صرف ساحل کا مبینہ طور پر چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہوئے پکڑا جانا تھا۔ انہوں نے اس معاملے میں پروفیسر اور دیگر افسران کے کردار کی جانچ کا مطالبہ کیا۔لیکن ان میں سے کسی بھی الزام کو ابھی ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس سلسلے میں آئی آئی ٹی بامبے نے کہا ہے کہ ساحل نے کبھی بھی ذات کی بنیاد پر ہراساں کیے جانے وغیرہ کی کوئی شکایت ادارے کے ایس سی-ایس ٹی سیل سے نہیں کی۔19-21 ستمبر: کیمپس میں طلبا کا احتجاجساحل کی موت کے بعد طلبا نے کیمپس میں احتجاج شروع کر دیا اور انسٹی ٹیوٹ کے مرکزی دروازے کے قریب دھرنا دیا۔ طلبا کا کہنا ہے کہ اس تحریک کا مقصد نقل یا کسی بھی طرح کی تعلیمی بے ضابطگی کا دفاع کرنا نہیں ہے، بلکہ واقعہ کے حوالے سے ادارے کے رویے، غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت اور تادیبی کارروائی کے طریقۂ کار میں اصلاح سے متعلق ہے۔20 ستمبر 2026: آئی آئی ٹی ڈائریکٹر نے طلبا کے 18 نکاتی میمورنڈم پر دستخط کیے20 ستمبر کو دیر شب ہوئی ایک میٹنگ میں، جو خبروں کے مطابق تقریباً 3 گھنٹے تک چلی، آئی آئی ٹی بامبے کے ڈائریکٹر شریش بی کیدارے نے احتجاج کرنے والے طلبا اور سینئر افسران کی موجودگی میں چارٹر پر دستخط کیے۔ کیدارے نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ طے شدہ ادارہ جاتی طریقۂ کار پر عمل کرنا ہوگا۔ بعد میں آئی آئی ٹی بامبے نے واضح کیا کہ انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔طلبا کے مطالبات میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ معاملے کی جانچ ایک آزاد پینل سے کرائی جائے، جس میں پروفیسر، طلبا کے نمائندے اور طلبا کی جانب سے تجویز کردہ بیرونی ارکان ہوں۔ ساتھ ہی اس جانچ کو 30 ستمبر تک مکمل کرنے اور 15 اکتوبر تک پبلک کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔21 ستمبر 2026: ٹاؤن ہال میٹنگ میں مطالباتی خط پر بحثطلبا کے مطالباتی خط اور ڈائریکٹر کی جانب سے اسے قبول کرنے کے معاہدے پر 21 ستمبر کو شام 5 بجے ادارے کے کامن ہال میں منعقدہ ٹاؤن ہال میٹنگ میں تمام طلبا کے ساتھ بحث کی گئی۔ اس بحث میں ادارے کے سینئر افسران اور بورڈ آف گورنرز کے نمائندے شامل تھے۔ یہ میٹنگ تقریباً 4 گھنٹے تک چلی۔میٹنگ کے دوران طلبا نے ادارے کی جانب سے جاری پہلے بیان کو لے کر سوالات اٹھائے۔ ساتھ ہی پروفیسر ڈولا کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ طلبا نے ہاسٹل کے تمام مسائل بھی سامنے رکھے، جنہیں دور کرنے کی یقین دہانی طلبا کو کرائی گئی۔آئی آئی ٹی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایک کمیٹی طلبا کے 18 نکاتی مطالبات پر غور کرے گی اور ایک ہفتے میں ان پر فیصلہ لیا جائے گا۔21 ستمبر 2026: آئی آئی ٹی بامبے نے معافی مانگی، پروفیسر ڈولا کو ڈین کے عہدے سے ہٹایاآئی آئی ٹی انتظامیہ نے 21 ستمبر کو اپنے پہلے بیان پر معافی مانگتے ہوئے وضاحت کی کہ جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی سب کچھ واضح ہو سکے گا۔ ساتھ ہی ڈولا کو ڈین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ لیکن وہ پروفیسر کے عہدے پر برقرار ہیں۔اس دوران آئی آئی ٹی فیکلٹی پروفیسر ڈولا کی حمایت میں متحد ہو گئی ہے۔ فیکلٹی ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر راج کمار پنت نے کہا ہے کہ ڈولا ابھی پروفیسر کے عہدے پر برقرار ہیں اور ڈین رہتے ہوئے انہوں نے طلبا کے مفاد میں کئی اقدامات کیے ہیں۔ فیکلٹی ارکان نے کیمپس میں کل شام ایک مارچ بھی نکالا۔ لیکن اسی دوران ادارے کے ہیومینیٹیز اینڈ سوشل سائنسز کے پروفیسر سوریہ کانت واگھمورے نے خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فیکلٹی کی مبینہ ایسوسی ایشن تمام پروفیسروں کے جذبات کی نمائندگی نہیں کرتی ہے۔22 ستمبر 2026: کرائم برانچ نے جانچ تیز کیاس دوران کرائم برانچ نے اپنی جانچ تیز کر دی ہے۔ جانچ اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسر کی قیادت میں کی جا رہی ہے۔ جانچ ٹیم نے امتحان کے کمرے اور کیمپس کے دوسرے حصوں میں لگے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس فوٹیج کو ابھی پبلک نہیں کیا گیا ہے۔پولیس ساحل کے موبائل فون کے ڈاٹا کا بھی تجزیہ کر رہی ہے تاکہ کسی نتیجے پر پہنچا جا سکے۔ مانا جا رہا ہے کہ جانچ کے دوران کئی پروفیسر اور طلبا وغیرہ کے بیانات بھی درج کیے جا سکتے ہیں۔ فی الحال اس معاملے میں ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔