نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کارتی چدمبرم نے دہلی میں جاری ووٹر لسٹ کے خصوصی گہرے نظرثانی عمل (ایس آئی آر) پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کا موازنہ امریکہ کے تاریخی جِم کرو قوانین سے کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کا موجودہ طریقہ کار شمولیتی ہونے کے بجائے اخراج پر مبنی ہے اور اس کے ذریعے لوگوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کا خدشہ ہے۔کارتی چدمبرم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کی گئی ایس آئی آر کی یہ کارروائی امریکہ میں نسلی علیحدگی کے دور کے جِم کرو قوانین جیسی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ’اخراج پر مبنی‘ عمل ہے، نہ کہ ایسا طریقہ جو زیادہ سے زیادہ اہل شہریوں کو انتخابی عمل میں شامل کرے۔ان کا یہ بیان دہلی میں ایس آئی آر کے دوران لاکھوں ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے کے پس منظر میں آیا ہے۔ دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق تقریباً 97 لاکھ ووٹروں کے نام ڈرافٹ انتخابی فہرست میں شامل ہیں، جن میں سے 33.13 لاکھ ووٹروں کو ان کے انتخابی ریکارڈ میں مبینہ تضادات یا سابقہ ایس آئی آر کی فہرست سے ریکارڈ منسلک نہ ہونے کی بنیاد پر نوٹس کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔ 31.63 لاکھ سے زیادہ نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔کارتی چدمبرم نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسے افراد کے نام انتخابی فہرست میں نہیں ہونے چاہئیں جو کہیں اور منتقل ہو چکے ہیں یا وفات پا چکے ہیں، لیکن ان کے مطابق موجودہ عمل اس سے کہیں آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ گزشتہ انتخابات میں ووٹ دے چکے ہیں اور اب بھی اسی علاقے میں رہتے ہیں، ان پر اپنی اہلیت ثابت کرنے کی اتنی بڑی ذمہ داری کیوں ڈالی جا رہی ہے۔انہوں نے سینئر وکیل کپل سبل، وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سمیت معروف افراد کو نوٹس ملنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عمل میں ممکنہ نظامی خامیوں کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں، افسران اور دیگر معروف شہریوں کو بھی ایس آئی آر کے تحت نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم دہلی کے انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ نوٹس ملنے کا مطلب ووٹر کا نام خودکار طور پر فہرست سے خارج ہونا نہیں ہے۔ متعلقہ ووٹر دستاویزات جمع کرا کے اپنی تفصیلات کی تصدیق کرا سکتے ہیں۔کارتی چدمبرم نے الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر کے عمل میں مزید شفافیت اور ووٹر دوست طریقہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ووٹ دینے کا اہل کوئی بھی شہری انتخابی فہرست سے باہر نہ ہو۔جِم کرو قوانین امریکہ میں خصوصاً جنوبی ریاستوں میں نافذ ایسے قوانین کا مجموعہ تھے جنہوں نے نسلی علیحدگی کو قانونی شکل دی تھی۔ یہ قوانین 19ویں صدی کے آخر سے 20ویں صدی کے وسط تک مختلف شعبوں میں نافذ رہے اور سیاہ فام افراد کو مساوی حقوق اور سہولتوں سے محروم رکھنے والے نظام کا حصہ تھے۔کارتی چدمبرم نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اسے نوجوانوں کو اپنی آواز اور مسائل سامنے رکھنے کے لیے ایک پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو میں اس پروگرام کا خیرمقدم کیا جائے گا اور نوجوان اس میں جوش و خروش سے حصہ لیں گے۔