کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ووٹر رجسٹریشن کے عمل میں تبدیلی کر کے پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ انہوں نے اس معاملے میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ کل دیر رات گھبرائے ہوئے الیکشن کمیشن نے افسران کو نوجوان ووٹرس کے لیے خصوصی نامزدگی کیمپ لگانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی ’وسیع پیمانے پر تشہیر‘ کرنے کی ہدایت دی۔‘‘कल देर रात घबराए हुए चुनाव आयोग ने अधिकारियों को युवा मतदाताओं के लिए विशेष नामांकन कैंप लगाने और सोशल मीडिया के जरिए उनका “व्यापक प्रचार” करने का निर्देश दिया।लेकिन इससे पहले खुद CEC ने Form 6 में खुले तौर पर गैरकानूनी और असंवैधानिक बदलाव कर युवा मतदाताओं के लिए अपना नाम…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) September 26, 2026کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر مزید لکھا کہ ’’لیکن اس سے قبل خود چیف الیکشن کمشنر نے فارم-6 میں مبینہ طور پر غیر قانونی اور غیر آئینی تبدیلی کر کے نوجوان ووٹرس کے لیے اپنا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرانا تقریباً ناممکن بنا دیا تھا۔ اس میں ایک نیا لازمی سیکشن شامل کیا گیا، جس میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ کے والدین/دادا دادی گزشتہ ایس آئی آر میں شامل تھے یا نہیں۔ اس سے پہلی بار ووٹ دینے والے جین زی ووٹرس کے لیے ایک نئی رکاوٹ کھڑی ہو گئی۔‘‘جے رام رمیش نے دعویٰ کیا ہے کہ فارم-6 میں کی گئی تمام تبدیلیاں غیر قانونی ہیں۔ انہوں نے اس کو درج ذیل 3 نکات کے ذریعہ سمجھایا ہے:خلاف ورزی 1: جولائی 2026 کے آغاز میں بغیر کسی سرکاری نوٹیفکیشن کے آن لائن فارم کو چپکے سے تبدیل کردیا گیا۔خلاف ورزی 2: ای سی آئی کو فارم 6 میں ترمیم کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ، 1950 کے مطابق یہ اختیار صرف مرکزی حکومت کے پاس ہے۔ یہ واضح طور پر الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنے دائرۂ اختیار کی بہت بڑی خلاف ورزی ہے۔خلاف ورزی 3: رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، 1960 کے تحت فارم 6 کو کنٹرول کرنے والے قواعد میں کوئی ترمیم کیے بغیر ہی فارم تبدیل کر دیا گیا۔ ایسا صرف مرکزی حکومت پارلیمنٹ کو مناسب اطلاع دے کر کر سکتی ہے۔ قانون کے ذریعے مقرر کردہ ایک قانونی فارم کو مبینہ طور پر گھبرائی ہوئی پی ایم-ایچ ایم کی جوڑی کے اشارے پر سی ای سی گیانیش کمار نے یک طرفہ طور پر تبدیل کر دیا۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ اتفاق سے، دونوں الیکش کمشنرز بھی اس ’غیر قانونی اور غیر مجاز‘ تبدیلی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاکہ نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے ووٹرس بغیر کسی پریشانی کے اپنا نام درج کراسکیں۔’گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا‘، کے سی وینوگوپال کا اعلان، ملک گیر احتجاج مزید تیز کرنے کا اشارہجے رام رمیش کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے نہ صرف آئینی روایات اور طریقہ کار کو توڑا ہے بلکہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کی بھی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا عہدے پر برقرار رہنا ہندوستان کے عوام کی توہین ہے۔ قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے، جس کے بارے میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس نے قانون توڑا ہے۔ آخر ہندوستانی جمہوریت کی حالت کہاں تک گر گئی ہے؟ سپریم کورٹ کو فوری طور پر ازخود نوٹس لے کر انہیں جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ جیسا کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی جی نے کہا ہے کہ گیانیش کمار کے پاس اب بھی استعفیٰ دے کر اور ’اپروور‘ بن کر اپنی غلطی سدھارنے کا موقع ہے۔ خاص طور پر ہندوستان کے نوجوان ایسے قدم کا خیرمقدم کریں گے۔