سال 2026 کے اختتام تک دنیا کے خاتمے کی پیش گوئی نے سنسنی پھیلادی ، ونیورسٹی آف الینوائے کے تین محققین نے دعویٰ کیا تھا کہ جمعہ 13 نومبر 2026 کو دنیا کی آبادی اپنے آخری ممکنہ نقطے پر پہنچ کر تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔بعض سائنس دانوں کی کئی دہائیاں قبل ایک تحقیق میں کی گئی پیش گوئی نے عالمی سطح پر ایک بار پھر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ موجودہ سال 2026 کے اختتام سے قبل دنیا کو ایک بڑے تباہ کن واقعے کا سامنا ہوسکتا ہے ، تاہم یہ دعویٰ ایک پرانی تحقیق اور اس کے مفروضوں پر مبنی ہے، جسے موجودہ سائنسی پیش گوئی نہیں سمجھا جاتا۔برطانوی اخبار ڈیلی اسٹار کی رپورٹ، جسے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی شائع کیا اس میں کہا گیا یہ دعویٰ کسی کا فرضی خیال نہیں دراصل 1960 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے سامنے آئی تھی۔جس میں یونیورسٹی آف الینوائے کے تین ممتاز محققین ہائنز فون فورسٹر، پیٹریسیا ایم مورا، اور لارنس ڈبلیو امیوٹ نے مختلف ریاضیاتی ماڈلز کا مطالعہ کر کے انتباہ دیا تھا کہ جمعہ 13 نومبر 2026 کو دنیا کی آبادی اپنے آخری ممکنہ نقطے پر پہنچ کر تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔مزید پڑھیں : کیا 2030 تک دنیا سے انسانوں کا وجود ختم ہو جائے گا؟ نئی پیشگوئی نے تہلکہ مچا دیا پیشگوئی کو اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے؟دنیا کے خاتمے سے متعلق بے شمار افواہیں سامنے آتی رہتی ہیں، تاہم اس تحقیق کی طرف عالمی میڈیا کی توجہ کی سب سے بڑی وجہ اس کے ایک سائنس دان ہائنز فون فورسٹر کی مصنوعی ذہانت کے بارے میں درست ثابت ہونے والی پیشگوئی ہے۔آسٹریائی نژاد امریکی سائنس دان فون فورسٹر نے 1995 میں ہی خبردار کر دیا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور انسانی فکر کو ایک جیسا سمجھنا ایک خطرناک غلطی ہوگی، آج دہائیوں بعد جب AI زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہو رہی ہے، ان کا یہ تجزیہ بالکل سچ ثابت ہوا ہے۔تباہی کی اصل وجہسائنس دانوں کے مطابق دنیا کا خاتمہ کسی ایٹمی جنگ، زلزلے یا ماحولیاتی آفت سے نہیں بلکہ صرف اور صرف حد سے زیادہ آبادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے ہوگا۔جب 1960 میں یہ تحقیق لکھی گئی تو عالمی آبادی صرف 3 ارب تھی، جو آج بڑھ کر تقریباً 8.3 ارب تک پہنچ چکی ہے۔FOLLOW US ON ARY TUBEاگرچہ 1960 کی یہ تحقیق رواں سال میں بحران کا اشارہ دیتی ہے، لیکن اقوامِ متحدہ اور جدید ماہرینِ آبادی کے باضابطہ تخمینوں کے مطابق دنیا کی آبادی فی الحال تباہ کن سطح پر نہیں پہنچی۔جدید ماہرین کا اندازہ ہے کہ عالمی آبادی 2080 کی دہائی کے وسط تک تقریباً 10.3 ارب تک پہنچے گی اور اس کے بعد خود بخود کم ہونا شروع ہو جائے گی۔