ہندوستان اور ’گلف کوآپریشن کونسل‘ (جی سی سی) نے سمندری راستوں پر بلا رکاوٹ آمد و رفت کی آزادی کے اصول کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ خطے میں موجودہ حالات کی وجہ سے آزادی پر خطرہ بڑھ گیا ہے۔ وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر نے جمعہ کے روز ہندوستان-جی سی سی ٹروئیکا وزارتی اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ اس دوران خطے کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہندوستان اور گلف کوآپریشن کونسل نے سمندری راستوں پر بلا رکاوٹ آمدورفت کی آزادی کے اصول کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس کے بعد جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ہم نے سمندری آمد و رفت کی آزادی اور ملاحوں اور کمرشل بحری جہازوں کی سلامتی کے حوالے سے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔اس میٹنگ میں جی سی سی کے سکریٹری جنرل جاسیم البدیوی، بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی اور قطر کے امور خارجہ کے وزیر مملکت سلطان بن سعد المریخی سمیت کئی نمائندے شامل ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور جی سی سی کے درمیان شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ جے شنکر نے بتایا کہ میٹنگ میں ہندوستان-جی سی سی جوائنٹ ایکشن پلان 2024-28 کے تحت اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ ساتھ ہی ہندوستان اور جی سی سی کے مابین شراکت داری کو مزید تقویت دینے کے طریقۂ کار پر بھی غور و فکر کیا گیا۔اس مشترکہ ایکشن پلان کو 2024 ریاض میں ہونے والے پہلے ہندوستان-جی سی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اپنایا گیا تھا۔ اس میں صحت، تجارت، زراعت، غذائی تحفظ، نقل و حمل، توانائی اور توانائی کے تحفظ کے ساتھ ثقافت کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ جے شنکر نے خلیجی ممالک میں رہنے والی ہندوستانی برادری کو دی جانے والی حمایت کے لیے جی سی سی ممالک کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ہندوستانی تارکین وطن کی سب سے بڑی آبادی خلیجی خطے میں رہتی ہے، جہاں 90 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی مقیم ہیں۔ جے شنکر نے بتایا کہ اجلاس میں ہندوستان-جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے لیے مذاکرات شروع ہونے کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔بین الاقوامی بحری راستوں پر حملے ناقابل قبول، دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس ضروری: آسیان فورم میں وزیر خارجہ جے شنکر6 ممالک پر مشتمل جی سی سی فی الحال ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ہندوستان اور جی سی سی کے درمیان دو طرفہ تجارت تقریباً 178 ارب ڈالر رہی تھی۔ آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات فروری میں دوبارہ شروع ہوئے تھے۔ وزارتی سطح کے اجلاس کی تیاری کے تحت گزشتہ ماہ ریاض میں سعودی عرب میں ہندوستان کے سفیر وپل اور جی سی سی کے سکریٹری جنرل البدیوی کے درمیان بھی بات چیت ہوئی تھی۔ جے شنکر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہم تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، غذائی تحفظ، صحت، نئی ٹیکنالوجی، ثقافت اور عوام کے درمیان روابط جیسے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی امید رکھتے ہیں۔