نابالغ سے اجتماعی زیادتی کے خلاف طالبات کا ’یونٹی مارچ‘، دہلی میں خواتین کی سکیورٹی پر سوال

Wait 5 sec.

نئی دہلی: جنوبی دہلی میں معروف لیڈی شری رام کالج (ایل ایس آر) کے قریب واقع ایک پارک میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد خواتین کی سلامتی کے مسئلے پر ایک بار پھر تشویش بڑھ گئی ہے۔ واقعے کے خلاف ایل ایس آر کی طالبات نے کالج کے باہر ’یونٹی مارچ‘ نکال کر غم و غصے کا اظہار کیا اور عوامی مقامات پر خواتین کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔واقعے کے بعد نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے بدھ کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے ملزمان کے خلاف فوری قانونی کارروائی اور شفاف و مقررہ مدت میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ این ایس یو آئی کے قومی میڈیا انچارج روی ہنومان پانڈے نے کہا کہ اگر لڑکیاں محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے اور آزادانہ طور پر آمدورفت کرنے کے قابل نہیں ہیں تو حکومت کو اس کی جواب دہی طے کرنی چاہیے۔واقعے کے باعث ایل ایس آر کیمپس میں بھی تشویش کا ماحول پیدا ہوا۔ حفاظتی خدشات کے پیش نظر کالج انتظامیہ نے منگل کو فزیکل کلاسز معطل کر دی تھیں، جبکہ بدھ کے تعلیمی سیشن آن لائن منعقد کیے گئے۔ تاہم، طلبہ اور فیکلٹی کے ساتھ میٹنگ کے بعد کالج نے جمعرات سے آف لائن کلاسز دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق طلبہ کی سلامتی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور اضافی کاؤنسلنگ سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔تصویر قومی آواز / وپنیونٹی مارچ کے دوران طالبات نے علاقے میں سی سی ٹی وی نگرانی کی کمی اور پولیس کی ناکافی موجودگی پر تشویش ظاہر کی۔ طالبات نے کالج کے پچھلے گیٹ کے قریب مبینہ طور پر لڑکیوں کا تعاقب کرنے اور ہراساں کیے جانے کے واقعات کی جانب بھی توجہ دلائی۔ مارچ میں ایک پوسٹر پر درج تھا، ’’رات کی تازہ ہوا کا لطف اٹھانا میری غلطی نہیں؛ اسے مجھ سے چھیننے کی خواہش رکھنا آپ کی غلطی ہے۔‘‘ طالبات نے اس کے ذریعے خواتین کے لیے محفوظ عوامی مقامات کی ضرورت پر زور دیا۔این ایس یو آئی نے ایل ایس آر کالج اور اس سے ملحقہ علاقوں، خصوصاً پارکوں، میٹرو اسٹیشنوں اور طلبہ کی زیادہ آمدورفت والی سڑکوں کا جامع سکیورٹی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے پولیس گشت بڑھانے، اسٹریٹ لائٹنگ بہتر بنانے اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کا مؤثر نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا۔خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات کے پس منظر میں دہلی میں خواتین کی سلامتی ایک اہم عوامی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ طلبہ، کارکنوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات کو محفوظ بنانے کے لیے پولیسنگ، روشنی، نگرانی اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس واقعے کے بعد مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو جلد انصاف فراہم کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مستقل حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔