’چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ سے کم کچھ بھی منظور نہیں‘، الیکشن کمیشن کے پریس نوٹ پر کانگریس کا واضح رد عمل

Wait 5 sec.

الیکشن کمیشن نے 26 ستمبر کو ایک اہم میٹنگ کی، جس کے بعد پریس نوٹ جاری کر کچھ فیصلوں اور حقائق سے روشناس کرایا گیا۔ پریس نوٹ جاری ہونے کے بعد کانگریس کا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’انڈین ایکسپریس کے انکشاف اور اس کے بعد دیگر اخبارات میں آئی رپورٹس کے ساتھ ساتھ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 26 ستمبر کو ایک پریس نوٹ جاری کیا۔ اس پریس نوٹ میں نہ تو براہ راست اس رپورٹ کی تردید کی گئی ہے اور نہ ہی اس کے نتائج کی۔‘‘हमारे लोकतंत्र को पहले ही भारी नुकसान पहुंचाने के बाद अब चुनाव आयोग डैमेज कंट्रोल मोड में है। उसने एक गोलमोल प्रेस नोट जारी किया है, जो उसकी नीयत, ईमानदारी, निष्पक्षता और विश्वसनीयता पर और भी सवाल खड़े करता है। इस बोगस प्रेस नोट पर हमारी यह प्रतिक्रिया है। pic.twitter.com/DLYpkDEgKK— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) September 26, 2026جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ پریس نوٹ کے پیراگراف 3(الف) اور 3(ب) میں دفاع کی حالت میں نیوز رپورٹ کی باتوں کو کم کر کے ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ عائد کردہ الزام بے بنیاد ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے اپنے بیان میں دوسری بات یہ لکھی ہے کہ گوا کے معاملے میں پکڑے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے دبی ہوئی آواز میں کہا ہے کہ ہٹائے گئے 97 ووٹرز میں سے 81 نے اپنا نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے فارم-6 پہلے ہی بھر دیا ہے۔ اسے دوسرے طریقے سے کہا جائے تو پہلے آپ ایک خراب اور بدعنوان نظام کے ذریعہ ووٹرز سے ان کا ووٹ دینے کا حق چھینتے ہیں، اور جب پکڑے جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اب ان کے نام واپس جوڑے جا رہے ہیں۔جئے رام رمیش نے تیسری بات یہ سامنے رکھی ہے کہ پریس نوٹ میں 27 مئی 2026 کے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دے کر الیکشن کمیشن کی کارروائیوں کو درست ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’حال کے انکشافات سے کافی پہلے آئے اس حکم کی آڑ میں چیف الیکشن کمشنر نہ تو چنندہ ووٹرز کے نام غلط طریقے سے ہٹانے کی ذمہ داری سے بچ سکتے ہیں، نہ اس نااہلی کی ذمہ داری سے جس کے سبب شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب ہو گئے، اور نہ ہی پورے پورے کنبوں کو ہوئی پریشانی و استحصال کے سبب خرچ اور کام کے کئی گھنٹوں کی شکل میں ہوئے کروڑوں کے نقصانات کی ذمہ داری سے۔‘‘ اپنی طرف سے چوتھی بات پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’اس (پریس نوٹ) میں دہلی اور مہاراشٹر میں ووٹر رجسٹریشن کی مدت کار بڑھائی گئی ہے، لیکن کرناٹک اور تلنگانہ کے ووٹرز کا کیا؟ بہار اور مغربی بنگال میں جن ووٹرز سے ووٹ دینے کا حق چھین لیا گیا، ان کا کیا؟ کیا اس ایک شخص کی بدعنوانی کے سبب جن ووٹرز کے نام مذکورہ اور دیگر ریاستوں میں ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے، وہ جواب پانے کے حقدار نہیں ہیں؟‘‘تنازعات کے درمیان الیکشن کمیشن نے کی اہم میٹنگ، دہلی-مہاراشٹر میں ایس آئی آر کی تاریخ بڑھی، لیے گئے کچھ بڑے فیصلےالیکشن کمیشن کے پریس نوٹ کا پانچواں نقص سامنے رکھتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ای سی آئی اب ای سی آئی نیٹ پورٹل کا تجزیہ کرنے کے لیے آئی آئی ٹی/آئی آئی آئی ٹی کے ماہرین کو شامل کرے گا اور ان سے یہ یقینی کرنے کے لیے رپورٹ طلب کرے گا کہ پورٹل اصولوں کے مطابق کام کر رہا ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ اپنے آپ میں ایک بے کار سیف گارڈ ہے، کیونکہ فکر اس کی تکنیکی مضبوطی کو لے کر نہیں بلکہ اس سنٹرلائزیشن کو لے کر ہے جو زمینی سطح پر ووٹرز کے نام جوڑنے میں رخنہ ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ان فکروں کی بھی تصدیق کرتا ہے جو رپورٹس کے مطابق دیگر دونوں الیکشن کمشنرز نے اٹھائی تھیں۔‘‘کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنے پریس بیان میں چھٹی بات یہ لکھی ہے کہ ’’پریس نوٹ میں جین-زی ووٹرز کو قصداً نشانہ بنائے جانے سے جڑے سوالوں کا جواب دینے سے بچا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس چنندہ طریقے سے ان کا ووٹ دینے کا حق چھیننے کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اس کی ابتدا جولائی 2026 کے وسط میں فارم-6 میں کی گئی پوری طرح غیر قانونی تبدیلیوں سے ہوئی تھی، جنھیں نہ تو پارلیمنٹ نے دیکھا اور نہ ہی منظوری دی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ان تبدیلیوں کے ذریعہ نوجوان ووٹرز پر اپنے والدین اور دادا-دادی کی تفصیل تلاش کرنے اور اسے جمع کرنے کا نامناسب بوجھ ڈال دیا گیا۔‘‘الیکشن کمیشن آف انڈیا کو فارم-6 میں ترمیم کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے: جے رام رمیشجئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ کئی باتیں ایسی ہیں، جن کے بارے میں الیکشن کمیشن نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انھوں نے کہا کہ جو انکشافات ہوئے ہیں، ان کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دینا ضروری ہے کہ (1) چیف الیکشن کمشنر نے کس طرح یکطرفہ فیصلے لیے، (2) اپوزیشن کے تئیں ان کی کھلی نفرت اور تعصب نے کس طرح واضح جانبداری کو جنم دیا، (3) برسراقتدار نظام کے ذریعہ کی جا رہی ووٹ چوری میں انھوں نے کس طرح اپنی مرضی سے شراکت داری کی اور اسے فروغ دیا، (4) جین-زی ووٹرز کا نام ووٹر لسٹ میں درج ہونے سے روکنے کے لیے انھوں نے کس طرح انھیں خاص طور سے نشانہ بنایا، اور (5) افسوس یہ ہے کہ ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے اور ان کی چھنٹنی میں ان کی لاپروائی نے ان کی بدعنوانی کو ہی ظاہر کر دیا۔کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ ’نوکرشاہی کے طریقوں‘ اور پروٹوکول کے پیچھے چھپ سکتے ہیں، لیکن وہ پوری طرح ایکسپوز ہو چکے ہیں اور اب بری طرح گھبرائے ہوئے ہیں، کیونکہ پورا ملک ان سے جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جئے رام رمیش نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’جاری ایس آئی آر عمل، جو ہندوستان کے کئی کروڑ ووٹرز کو ان کے ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کا ایک بڑے پیمانے کا طریقہ بن گیا ہے، اسے بلا تاخیر روک دیا جانا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ یا ان کے خلاف قانونی کارروائی سے کم کچھ بھی منظور نہیں ہوگا۔‘‘