امریکا نے ایران کو خام تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی عارضی اجازت دے دی۔امریکی وزیر خزانہ کے مطابق امریکا نے ایران کے لیے عارضی طور پر 60 دن کا جنرل لائسنس جاری کر دیا ہے جس کے تحت ایران کو خام تیل پیداوار، ترسیل اور فروخت کی باقاعدہ اجازت ہو گی۔امریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اہم سفارتی کامیابیوں سےدنیا کو مزید محفوظ ،خوشحال بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے ایران نے آبنائےہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل وحمل کی یقین دہانی کروائی ہے۔وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ میں کامیاب اور مثبت مذاکرات ہوئے۔پاکستان اور قطر نے امریکا ایران مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔اعلامیے کے مطابق ایران اور امریکا کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز فوری ہوگا، پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، یہ کمیٹی مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی۔ایٹمی پروگرام، پابندیوں اور تنازعات کے حل کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عمل درآمد کے لیے سیل قائم کیا جائے گا، اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے رابطہ نظام قائم ہوگا۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ثالث ممالک پاکستان اور قطر کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے روز امریکا اور ایران نے ’’حوصلہ افزا پیش رفت‘‘ کی ہے، اور امریکا اور ایران نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔لبنان تنازع کے حل کے لیے امریکا اور ایران نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے قطر اور پاکستان کی سہولت کاری سے ایک ڈی کنفلیکشن سیل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تکنیکی سطح کے مذاکرات اس ہفتے بھی سوئٹزرلینڈ میں جاری رہیں گے۔واضح رہے کہ ان انتہائی اہم اور نازک مذاکراتی وقت میں اُس وقت کشیدہ لمحات بھی آئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے وفد کو دھمکیاں دے کر ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار کو ناراض کر دیا تھا، جس کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران پر دوبارہ بمباری کر سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حزب اللہ کی حمایت کے معاملے پر ایران پر حملے کی دھمکی دی تھی، تو تہران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کو اپنے بیانات اور لہجے میں احتیاط برتنی چاہیے۔