مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ نئے آدھار ایپ کو جاری کیے جانے کے پانچ ماہ سے بھی کم عرصے میں 3.1 کروڑ سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے، جو ملک بھر میں اس ڈیجیٹل سہولت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال اور عوامی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ وزارتِ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مطابق اب تک تقریباً 40 لاکھ افراد نے اس ایپ کے ذریعے اپنے موبائل نمبر اپ ڈیٹ کیے ہیں، جبکہ 8.5 لاکھ سے زیادہ صارفین نے پتہ تبدیل کرنے کی سہولت سے فائدہ اٹھایا ہے۔وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ گھر بیٹھے دستیاب ڈیجیٹل خدمات کے لیے عوام کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے اور نئے آدھار ایپ کی مقبولیت اس تبدیلی کی واضح مثال ہے۔ اینڈرائیڈ اور ایپل آئی او ایس دونوں پلیٹ فارم پر دستیاب اس ایپ کو شہریوں کی روزمرہ زندگی آسان بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔اس ایپ کے ذریعے صارفین موبائل نمبر اور پتہ اپ ڈیٹ کرنے کے علاوہ اپنی شناخت محفوظ انداز میں ظاہر، شیئر اور تصدیق بھی کر سکتے ہیں۔ حکومت کے مطابق ایپ میں رازداری اور تحفظ کو خاص اہمیت دی گئی ہے، جس سے صارفین کو ایک محفوظ اور آسان شناختی نظام میسر آتا ہے۔ایپ میں ایک کلک کے ذریعے بایومیٹرک لاک اور ان لاک، چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق، تصدیقی ریکارڈ کی جانچ اور کیو آر کوڈ پر مبنی قابل ترمیم رابطہ کارڈ جیسی سہولتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین ای۔آدھار ڈاؤن لوڈ کرنے اور آدھار سروس مرکز میں جانے کے لیے آن لائن وقت بھی طے کر سکتے ہیں۔حکومت کے مطابق اس ایپ کا استعمال ہوٹل میں قیام کے دوران شناختی تصدیق، اسپتال میں داخلے، مہمانوں کے انتظام، مختلف تقریبات میں داخلے، گیگ ورکروں کی شناختی جانچ اور دیگر خدمات فراہم کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعے شناخت کی تصدیق جیسے متعدد شعبوں میں کیا جا سکتا ہے۔حال ہی میں حکومت نے بتایا تھا کہ آدھار پر مبنی آف لائن تصدیقی نظام شروع ہونے کے صرف تین ماہ کے اندر تقریباً 100 اداروں کو آف لائن ویریفکیشن سیکنگ اینٹیٹی کے طور پر شامل کیا جا چکا ہے۔ ہندوستانی منفرد شناختی اتھارٹی کے مطابق یہ پیش رفت محفوظ، رضامندی پر مبنی اور مکمل طور پر کاغذ سے پاک شناختی نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے، کیونکہ اس طریقہ کار میں مرکزی ڈیٹا بیس تک فوری رسائی کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے صارفین کی رازداری اور سکیورٹی مزید مضبوط ہوتی ہے۔