برن (22 جون 2026): سوئٹزرلینڈ کے خوب صورت پہاڑی مقام برگن اسٹاک میں امریکا ایران مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے اور ایران اور امریکا کے وفود آج واپس روانہ ہوں گے۔مرکزی ثالث ملک پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سوئس وقت کے مطابق آج صبح ساڑھے گیارہ بجے وطن واپسی کے لیے اڑان بھریں گے۔پاکستان اور قطر نے امریکا ایران مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔اعلامیے کے مطابق ایران اور امریکا کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز فوری ہوگا، پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، یہ کمیٹی مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی۔امریکا ایران نے 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیاایٹمی پروگرام، پابندیوں اور تنازعات کے حل کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عمل درآمد کے لیے سیل قائم کیا جائے گا، اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے رابطہ نظام قائم ہوگا۔ایران کے وزیر خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی تیل برآمدات پر پابندی ختم کر دی گئی ہے، اور لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ پاکستان اور قطر کی ان تھک ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے، تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے۔وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ایران کے منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ جاری کر دیا گیا ہے، اور ایران کے لیے تعمیرِ نو اور ترقی کا ایک بڑا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔ بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ اقدامات کی تفصیلات اور عمل درآمد کے مراحل آئندہ مذاکرات سے مشروط ہیں، لبنان ڈی کنفلیکشن سیل معاہدے کا پہلا بڑا امتحان ہوگا۔