دوحہ (22 جون 2026): قطری وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ راس لفان کی فیکٹری میں دھماکے سے 54 افراد زخمی اور 18 لاپتا ہو گئے ہیں۔قطر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق اتوار کے روز قطر کے مرکزی ایل این جی پراسیسنگ مرکز راس لفان میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں چوّن افراد زخمی جب کہ 18 افراد لاپتا ہو گئے۔بتایا گیا کہ دھماکا ’’فنی حادثے‘‘ کے نتیجے میں ہوا ہے، روئٹرز کے مطابق قطر انرجی نے ایک بیان میں کہا کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آپریشنز دوبارہ شروع کرنے کے دوران پیش آنے والے ایک حادثے کے باعث اتوار کی شام برزان مقامی گیس سپلائی تنصیب میں دھماکا اور آگ لگ گئی۔إلحاقاً لما سبق، نتج الحادث عن عطل فني أثناء التشغيل بأحد المصانع في منطقة رأس لفان الصناعية، وأسفر عن عدد من الإصابات، دون وقوع أي تسريب يشكل خطراً على سلامة الأفراد، فيما تواصل الجهات المختصة التعامل مع الحادث.#الداخلية_قطر— وزارة الداخلية – قطر (@MOI_Qatar) June 21, 2026بیان کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے ہنگامی امدادی ٹیمیں فوری طور پر روانہ کی گئیں اور اب آگ قابو میں ہے۔ وزارت کے مطابق لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے، واقعے میں کسی قسم کی ایسی گیس لیکیج نہیں ہوئی ہے جو عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔عرب نیوز کے مطابق وزارت نے دھماکے کی درست جگہ کی نشان دہی نہیں کی، لیکن معاملے سے آگاہ ایک ذریعے نے بتایا کہ دھماکا راس لفان میں واقع برزان گیس پلانٹ میں ہوا اور اس کی وجہ ایک ’’آپریشنل غلطی‘‘ تھی۔ روئٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق دوحہ میں بھی ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق قطری انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو گروپ سول ڈیفنس کی ٹیموں کے تعاون سے 18 لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔ قطر انرجی نے یہ نہیں بتایا کہ دھماکے سے پلانٹ کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔ یہ پلانٹ ملکی مارکیٹ کو گیس فراہم کرتا ہے۔راس لفان دارالحکومت دوحہ کے شمال میں واقع ایک صنعتی شہر ہے اور ملک میں مائع قدرتی گیس (LNG) کی پراسیسنگ کا بنیادی مرکز بھی ہے۔