تیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت ہوئی ہے، عباس عراقچی کا اعتراف

Wait 5 sec.

تہران (22 جون 2026): ایران کے وزیر خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی تیل برآمدات پر پابندی ختم کر دی گئی ہے، اور لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ پاکستان اور قطر کی ان تھک ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے، تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے۔وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ایران کے منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ جاری کر دیا گیا ہے، اور ایران کے لیے تعمیرِ نو اور ترقی کا ایک بڑا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ اقدامات کی تفصیلات اور عمل درآمد کے مراحل آئندہ مذاکرات سے مشروط ہیں، لبنان ڈی کنفلیکشن سیل معاہدے کا پہلا بڑا امتحان ہوگا۔Tireless Pakistani and Qatari mediation has delivered major progress to end Lebanon War. Oil and petrochem exports are waived, blockade lifted, some frozen assets released, and major reconstruction & development plan launched for Iran. 1st real test: Lebanon deconfliction cell https://t.co/q0okD2qwSO— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 22, 2026 واضح رہے کہ پاکستان اور قطر نے امریکا ایران مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے، اعلامیے کے مطابق فریقین نے 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے، ایران اور امریکا کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز فوری ہوگا۔اعلامیے کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، یہ کمیٹی مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی، ایٹمی پروگرام، پابندیوں اور تنازعات کے حل کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عمل درآمد کے لیے سیل قائم کیا جائے گا، اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے رابطہ نظام قائم ہوگا۔