یورپ میں سورج کا قہر جاری، اموات 264 ہو گئیں

Wait 5 sec.

یورپ (26 جون 2026) یورپی ممالک میں سورج کا قہر جاری ہے شدید گرمی اور ہیٹ ویو سے اموات کی تعداد 264 تک جا پہنچی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپی ممالک اس وقت قیامت خیز گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ آگ برساتے سورج نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے باعث اموات کی تعداد 264 ہو گئی ہے۔اس گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ملک اسپین ہے، جہاں چار روز کے دوران 212 افراد جان سے گئے، کئی علاقوں میں پارہ 42 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو رہا ہے۔فرانس میں تین سال کے بچے سمیت 52 افراد کو گرمی نے شکار کیا۔ پیرس میں 24 گھنٹوں کے دوران دل کا دورہ پڑنے کے پچیس واقعات رپورٹ ہوئے۔ شدید گرمی کے باعث دو ایٹمی ری ایکٹر بند کر دیے گئے۔برطانیہ میں گرمی، ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک کےمریضوں کی تعدادمیں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایمبولینس سروس کو ایک دن میں جان لیوا نوعیت کی 642 ایمرجنسی کالزموصول ہوئیں۔ متعدد اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔دوسری جانب اسپتالوں میں کولنگ سسٹم بیٹھنے سے طبی آلات نے کام چھوڑ دیا ہے، جس کے باعث غیر ہنگامی آپریشنز اور اسکین عارضی طور پر ملتوی کر دیے گئے ہیں۔سوئٹزرلینڈ میں گرمی کا 80 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے جب کہ نیدرلینڈز میں گرمی کے حوالے سے پہلا ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔یورپی شہروں میں گرم ہوا کو قید کرنے والے ہیٹ ڈوم کو شدید ترین گرمی کی وجہ قرار دیدیا گیا ہے۔ خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ موجودہ موسمیاتی بحران نے یورپ کو 2003 کی تباہ کن ہیٹ ویو کی یاد دلا دی ہے۔ مغربی ممالک میں ایئر کنڈیشنز کا استعمال کم ہونے سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔