’مودی کا پیغام ہے– خود کھاؤ، مجھے بھی کھلاؤ، جم کر لوٹ مچاؤ‘، بھاگیرتھ چودھری معاملہ پر کانگریس کا تلخ تبصرہ

Wait 5 sec.

مودی کابینہ میں شامل مزید ایک بی جے پی لیڈر بدعنوانی میں پھنستے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ معاملہ وزیر مملکت برائے زراعت بھاگیرتھ چودھری سے جڑا ہوا ہے، جن پر عہدہ کے غلط استعمال کا سنگین الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ بھاگیرتھ چودھری کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا ہے ’’مودی کا پیغام ہے– خود کھاؤ، مجھے بھی کھلاؤ، جم کر لوٹ مچاؤ۔‘‘मोदी सरकार के मंत्री भागीरथ चौधरी का बड़ा भ्रष्टाचार सामने आया है।कृषि राज्य मंत्री भागीरथ ने अपने ही मंत्रालय से 99 लाख रुपए की सब्सिडी उठा ली - खीरे की खेती के लिए।मंत्री बनने के कुछ ही महीनों बाद ये खेल किया गया। भागीरथ ने अप्रैल 2025 में सब्सिडी मांगी और सिर्फ 14 दिन में… pic.twitter.com/vxy00wEe7O— Congress (@INCIndia) June 27, 2026سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’مودی حکومت کے وزیر بھاگیرتھ چودھری کی بڑی بدعنوانی سامنے آئی ہے۔ وزیر مملکت برائے زراعت بھاگیرتھ نے کھیرے کی زراعت کے لیے اپنی ہی وزارت سے 99 لاکھ روپے کی سبسیڈی اٹھا لی۔ وزیر بننے کے کچھ ہی ماہ بعد یہ کھیل کیا گیا۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بھاگیرتھ نے اپریل 2025 میں سبسیڈی کا مطالبہ کیا اور صرف 14 دن میں منظوری بھی مل گئی۔ یہ سیدھے طور سے عہدہ کے غلط استعمال کا معاملہ ہے۔ وزیر بن کر عوام کے پیسوں کی لوٹ کا معاملہ ہے۔‘‘اس معاملہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس نے کہا ہے کہ ’’نریندر مودی نے اپنے وزراء کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ پیغام صاف ہے– خود کھاؤ، مجھے بھی کھلاؤ، جم کر لوٹ مچاؤ۔‘‘ کانگریس نے اس معاملہ میں بھاگیرتھ چودھری کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’اس انکشاف کے بعد بھاگیرتھ چودھری کو اپنے عہدہ پر بنے رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان کا استعفیٰ لیا جائے اور ان کے بدعنوانی کی جانچ کی جائے۔‘‘