(27 جون 2026): لندن اور بیلجیم شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں، انڈر گراؤنڈ پلیٹ فارمز پر درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر گیا۔یورپ کے مختلف ممالک ان دنوں شدید اور ہلاکت خیز گرمی کی لہر کا سامنا کر رہے ہیں، جس نے عام زندگی کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے۔روایتی طور پر ٹھنڈے رہنے والے شہر لندن میں موسم اس حد تک گرم ہو چکا ہے۔لندن میں موسم اس حد تک گرم ہے کہ اس کا موازنہ پاکستان کے شہر ملتان سے کیا جا رہا ہے۔ لندن کے بعض انڈر گراؤنڈ ریلوے پلیٹ فارمز پر درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔Farmers fear drought as Italy’s longest river runs dryدوسری جانب، بیلجیم میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں ہے۔ وہاں شدید گرمی کے پیشِ نظر ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے اسکولوں کو بند کر دیا گیا ہے اور کئی عوامی و ثقافتی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے اور پانی کا زیادہ استعمال کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ درجہ حرارت 1976 میں قائم ہونے والا جون کے مہینے کا پرانا ریکارڈ 1 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد فرق سے توڑ چکا ہے، جو ایک غیر معمولی پیش رفت ہے کیونکہ ماضی میں ایسے ریکارڈ معمولی فرق سے ٹوٹتے تھے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلی شدید گرمی کی لہروں کو مزید طاقتور اور زیادہ بار آنے والا بنا رہی ہے، جبکہ 50 برس قبل اس نوعیت کی گرمی کی لہر کا آنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔