لبنان سے نکل جاؤ ورنہ، حزب اللہ کی اسرائیل کو وارننگ، معاہدہ ماننے سے انکار

Wait 5 sec.

بیروت (27 جون 2026): حزب اللہ نے دریائے لیطانی کے شمال میں غیر مسلح ہونے اور معاہدہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اسرائیل کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لبنان سے غیر مشروط طور پر نکل جائے، تنظیم نے کہا اسرائیل کو بہ ہر صورت مکمل اور غیر مشروط طور پر لبنان سے نکلنا ہوگا، اس کے بعد ہی ہتھیاروں پر بات ہوگی۔حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل لبنان پر قبضے کی نیت سے آیا ہے، ہماری مزاحمت نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، انھوں نے کہا لبنانی حکومت نصف لبنانی عوام کو اپنے خلاف نہیں کر سکتی۔ نعیم قاسم نے ایم او یو کو امریکا اور اسرائیل کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ برداشت ہماری حکمتِ عملی تھی، کمزوری نہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل اور لبنان نے واشنگٹن میں امریکی ثالثی میں مذاکرات کے بعد ایک معاہدے کے فریم ورک پر دستخط کر دیے ہیں، اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ معاہدے کے تحت اسرائیل اپنے شہریوں کو لاحق خطرات کے خاتمے کے بعد اپنی سرحدوں پر واپس جا سکے گا، اور لبنان کے لیے امریکا کی سہولت کاری میں سہ فریقی فوجی رابطہ گروپ قائم کیا جائے گا۔لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے فریم ورک پر دستخطانھوں نے بتایا کہ یہ معاہدہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب لبنانی وزیر اعظم نے کہا کہ فریم ورک معاہدے کا مقصد اسرائیلی افواج کا تمام لبنانی علاقوں سے انخلا یقینی بنانا اور ملک بھر میں ریاستی عمل داری قائم کرنا ہے۔