فوجی رابطے کا نیا چینل قائم کرنے کا بیان سراسر جھوٹ ہے، ایران نے تردید کر دی

Wait 5 sec.

تہران (27 جون 2026): ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکا کے ساتھ رابطہ چینل کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی رابطے کا نیا چینل قائم کرنے کا بیان سراسر جھوٹ ہے۔ایران نے جمعہ کے روز اس دعوے کی تردید کی کہ آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات کو فوجی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست رابطہ چینل قائم کیا گیا ہے۔پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے کہا کہ سرکاری بیانات اور مؤقف صرف فورس کے سرکاری پلیٹ فارمز کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں۔ فورس نے ’’دشمن کی جعلی خبروں‘‘ کے ذرائع پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’ایران کی قومی یک جہتی کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے من گھڑت مواد‘‘ شائع کر رہے ہیں۔ترجمان پاسداران کا کہنا ہے کہ ایسا ہوا ہے نہ ہوگا، ایران آبنائے ہرمز پر امریکا کے ساتھ کمیونیکیشن لائن قائم نہیں کرے گا۔ ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ایرانی علاقہ ہے، اس کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایران کو کوئی اختلاف ہے تو فون پر بات کر سکتا ہے، جے ڈی وینساس سے قبل ایرانی سرکاری ٹی وی ’پریس ٹی وی‘ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک براہِ راست رابطہ چینل قائم کیا گیا ہے، جس کا ذکر 22 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے حتمی بیان میں بھی کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد اسلام آباد میں دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے آرٹیکل 5 پر عمل درآمد تھا۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے برطانوی ویب سائٹ اَن ہرڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ امریکا اور ایران نے کشیدگی کم کرنے اور تنازعات سے بچنے کے لیے براہِ راست فوجی رابطے کا نیا چینل قائم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، اس انتظام کے تحت پاسداران انقلاب اورامریکی سینٹرل کمانڈ کے نمائندے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقاتیں کریں گے، تاکہ اختلافی معاملات کو براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔جے ڈی وینس کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ آئی آر جی سی اور سینٹ کام کے نامزد نمائندے دوحہ میں باقاعدہ رابطے کے ذریعے ایسے معاملات پر گفتگو کریں گے جو مستقبل میں تنازع یا غلط فہمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے ساتھ، بالخصوص آئی آر جی سی کے ساتھ، نئے رابطہ ذرائع قائم کیے ہیں اور تہران کے ساتھ مختلف معاشی مراعات اور تعاون کے امکانات پر غیر معمولی نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔